🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. اعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا
پگڑی باندھا کرو، اس سے تمہارے حلم (بردباری) میں اضافہ ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7598
أخبرني الحسن بن حَليم (2) المروزَي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان أخبرنا عبد الله، أخبرنا يحيى بن أيوب، أنَّ عُبيد الله بن زَحْر حدَّثه عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أُمامة: أنَّ عمر بن الخطّاب دعا بقَميصٍ له جديد فلَبِسَه، فلا أحسَبُ بَلَغَ تَراقِيه حتى قال: الحمدُ لله الذي كَسَاني ما أُواري به عَوْرتي، وأتجمَّلُ به في حياتي، ثم قال: أتدرون لِمَ قلت هذا؟ رأيتُ رسول الله ﷺ دعا بثيابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَها، قال: أحسَبُها بَلَغَت تَراقِيَه حتى قال مثلَ ما قلتُ، ثم قال:"والذي نفسي بيدِه، ما من عبدٍ مُسلمٍ لَبِسَ ثوبًا جديدًا ثم يقول مثلَ ما قلتُ، ثم يَعْمِدُ إِلى سَمَلٍ من أَخلاقِه الذي وَضَعَ فيَكسُوه إنسانًا مسكينًا مسلمًا فقيرًا، لا يكسوه إلَّا الله ﷿، إلَّا كان في جوار الله وفي ضَمانِ الله ما دام عليه منها سِلكٌ واحدٌ حيًا وميتًا (3) .
هذا حديث لم يحتج الشيخان بإسناده، ولم أذكُرْ أيضًا في هذا الكتاب مثلَ هذا، على أنه حديثٌ تفرَّد به إمام أهل خُراسان عبد الله بن المبارك (1) عن أئمّة أهلِ الشام ﵃ أجمعين، فآثرتُ إخراجه ليرغبَ المسلمون في استعماله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7410 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوامامہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نئی قمیص منگوا کر پہنی، آپ نے وہ قمیص ابھی صحیح طرح پہنی بھی نہیں تھی کہ یہ دعا مانگی الْحَمْدُ لِلَّهُ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ لباس پہنایا جس کے ساتھ میں نے اپنے ستر کو ڈھانپا، اور اس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کو خوبصورت کیا یہ دعا مانگنے کے بعد آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ میں نے یہ دعا کیوں پڑھی؟ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے، ابھی وہ کندھوں سے نیچے نہیں ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی دعا مانگی جو میں نے مانگی ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جب بھی کوئی مسلمان نیا کپڑا پہنے اور اسی طرح دعا مانگے جیسے میں نے مانگی ہے اور جو پرانے کپڑے اتارے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی غریب مسکین کو دے دے، جب تک اس کپڑے کا ایک دھاگہ بھی اس کے استعمال میں ہے تب تک دینے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے ذمہ کرم میں ہے۔ خواہ وہ زندہ ہو یا فوت ہو گیا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث کی اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کی۔ اور میں نے بھی اپنی اس کتاب میں ایسی احادیث نقل نہیں کی ہیں۔ علاوہ ازیں امام خراسان عبداللہ بن مبارک اس حدیث کو اہل شام کے ائمہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ اس لیے میں نے ان کی پیروی میں یہ حدیث نقل کر دی ہے تاکہ مسلمان اس کے استعمال میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7598]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7599
حدثنا أبو محمد أحمد (2) بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خَليفة القاضي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا عبيد الله بن أبي حُميد، عن أبي المَلِيح بن أسامة (3) ، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"اعتَمُّوا تزدادُوا حِلْمًا" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمامہ باندھا کرو، اس سے تمہارے رعب میں اضافہ ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7599]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7600
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الله بن عمر، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت: رأيتُ رجلًا يوم الخندق على صورة دِحْية ابن خَليفة الكَلْبي على دابَّةٍ يُناجي رسولَ الله ﷺ، وعلى رأسه عِمامةٌ قد أسدَلَها عليه، فسألت رسولَ الله ﷺ قال:"فإنَّ ذلك جبريلُ ﵇ أمَرَني أن أَخرجَ إلى بني قُريَظةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7412 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے جنگ خندق کے موقع پر دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل کا ایک آدمی دیکھا، وہ سواری پر سوار تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی راز داری کی بات کر رہا تھا، اس کے سر پر عمامہ تھا، جو کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈھلکایا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل امین علیہ السلام تھے، مجھے بنی قریظہ کی جانب جانے کا مشورہ دے رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7600]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7601
وقد حدَّثَناه أحمد بن سَلْمان (1) الفقيه، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عبد الله بن عمر، عن أخيه، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ على بِرْذَون عليه عِمامةٌ قد أَرْخَى طرفها بين كَتِفَيه، فسألتُ النبيَّ ﷺ، فقال:"رأيته؟ ذاكِ جبريلُ ﵇" (2) .
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک آدمی ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، اس کے سر پر عمامہ تھا، اس نے اپنے عمامے کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جس کو دیکھا، وہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7601]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں