🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. النَّهْيُ عَنِ السَّوْمِ بِالسِّلْعَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ .
سورج طلوع ہونے سے پہلے سامانِ تجارت کا بھاؤ کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7767
أخبرني محمد بن يزيد العدل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هلال بن بِشر، حدثنا أبو خَلَف عبد الله بن عيسى الخزَّاز، عن يونس بن عُبيد، عن عِكرِمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ لأبي الهيثم بن التَّيِّهان:"إِيَّاكَ واللَّبُونَ، اذبَحْ لنا عناقًا"، فأمر أبو الهيثم امرأتَه فعَجَنَتْ لهم عجينًا، وقطَّع أبو الهيثم اللحمَ، وطبخَ وشَوَى (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7576 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: دودھ دار جانور کو ذبح مت کرو، ہمارے لیے عناق (ایسی بکری جو دودھ نہ دیتی ہو) کو ذبح کرو۔ چنانچہ سیدنا ابوالہیثم نے اپنی بیوی کو کہا، اس نے ان کے لیے آٹا گوندھا، اور ابوہیثم نے گوشت بنا کر دیا، ان کی بیوی نے روٹیاں پکائیں اور گوشت بھونا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7767]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7768
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا الرَّبيع بن حبيب، عن نَوفَل بن عبد الملك، عن أبيه، عن علي، عن النبيِّ ﷺ: أنه نَهَى عن ذبح ذواتِ الدَّرِّ، وعن السَّوْم بالسِّلعة قبل طلوعِ الشَّمس (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7577 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ دینے والا جانور ذبح کرنے سے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے سودا بیچنے سے منع فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7768]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7769
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني حسَّان بن عطيّة، حدثني أبو كَبْشة السَّلُولي، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: قال رسول الله ﷺ:"أربعونَ خَصلةً أعلاهنَّ مِنْحةُ العَنْز، لا يعملُ عبدٌ بخَصْلةٍ منها رجاءَ ثوابها، وتصديقَ موعودِه، إلَّا أدخله اللهُ بها الجنَّةَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7578 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چالیس عادتیں (اچھی) ہیں، ان میں سب سے اعلیٰ۔ بکری کو منیحہ کرنا ہے (منیحہ وہ دودھ والی بکری یا اونٹنی ہے جس کو ایک معین مدت تک دودھ کے لیے مستعار لیا جاتا ہے اور پھر مالک کو واپس کر دی جاتی ہے) انسان ان میں سے کوئی کام بھی ثواب کی نیت سے کرے اور جو اس سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی تصدیق کے طور پر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7769]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7770
أخبرنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار بمكة على الصَّفَا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أبي المتوكِّل، عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ وأصحابه مرُّوا بامرأةٍ، فذبحت لهم شاةً، واتَّخَذَتْ لهم طعامًا، فلما رجع قالت: يا رسول الله، إِنَّا اتَّخَذْنا لكم طعامًا، فادخُلوا فكُلوا، فدخلَ النبيُّ ﷺ وأصحابُه، وكانوا لا يَبدَؤون حتى يبدأَ النبيُّ ﷺ، فأخذ النبيُّ ﷺ (1) لُقمةً فلم يستطع أن يُسِيغَها، فقال النبيُّ ﷺ:"هذه شاةٌ ذُبِحَتْ بغير إذن أهلِها"، فقالت المرأةُ (2) : يا نبيَّ الله، إنَّا لا نَحتشِمُ من آل مُعاذ ولا يَحتشِمون منَّا، أنْ نأخذَ منهم، ويأخذون منّا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7579 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ ایک عورت کے پاس سے گزرے، اس عورت نے ان کے لیے بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ہم نے آپ لوگوں کے لیے کھانا تیار کیا ہے، آپ اندر تشریف لائیں اور کھانا تناول فرما لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اندر تشریف لے گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے اس وقت تک یہ لوگ کھانے کا آغاز نہ کرتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ایک لقمہ لیا، لیکن آپ اس کو نگل نہ سکے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بکری کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے۔ وہ عورت کہنے لگی: اے اللہ کے نبی! ہم آل معاذ سے تکلف نہیں کرتے اور نہ ہی وہ لوگ ہم سے تکلف برتتے ہیں۔ ہم ان کی چیزیں بلا اجازت لے لیتے ہیں اور وہ ہماری چیزیں بلا اجازت لے لیتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7770]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں