المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. النَّدَمُ تَوْبَةٌ .
ندامت (شرمندگی) ہی توبہ ہے
حدیث نمبر: 7803
أخبرناه أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم (1) بن أبي غَرَزة، حدثنا عبيد الله بن موسى وأبو نُعيم، قالا: حدثنا عُبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثنا إياد، عن البَرَاء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ:"كيف تقولون بفَرَح رجلٍ انفلتَتْ راحلتُه تجُرُّ زِمامَها بأرض قَفْرٍ ليس بها طعامٌ ولا شرابٌ، وعليها له طعامٌ وشرابٌ، فطَلَبها حتى شقَّ عليه، ثم مرَّتْ بجذْلِ شجرةٍ فتعلَّق زِمامُها، فوجدَها معلَّقةً به؟" قلنا: شديدٌ يا رسولَ الله، قال:"أمَا واللهِ، اللهُ أشدُّ فَرَحًا بتوبة عبدِه من الرَّجل براحلتِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7611 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7611 - على شرط مسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جو چٹیل میدان میں ہو، جہاں پر کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو، اس کا کھانا پینا سب اس کی سواری پر ہو اور وہ سواری یہ سب کچھ لے کر بھاگ گئی ہو۔ وہ آدمی اپنی سواری کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک ہار گیا ہو، لیکن اس کی سواری ایک درخت کے قریب سے گزر رہی ہو، اور اس کی لگام اس درخت میں اٹک گئی ہو، تو اس آدمی کو اپنی سواری اس درخت کے ساتھ بندھی ہوئی مل جائے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تو بہت زیادہ خوشی ہو گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7803]
حدیث نمبر: 7804
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن شَيْبان الرَّمْلي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عبد الكريم الجَزَري، عن زياد بن أبي مريم، عن عبد الله ابن مَعْقِل قال: دخلتُ أنا وأَبي على عبد الله بن مسعود، فقال له أَبي: أسمعتَ النبيَّ ﷺ يقول:"النَّدمُ توبةً؟" قال: نعم، أنا سمعتُه يقول:"النَّدم توبةٌ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7612 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7612 - صحيح
عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں: میں اور میرے والد محترم، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے کہ ” ندامت، توبہ ہی ہے “؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” شرمندگی “ توبہ ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7804]
حدیث نمبر: 7805
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان قال: سمعتُه من عبد الكريم الجَزَري يقول: أخبَرَناه زيادُ بن أبي مريم -قال: إن كان سعيدُ بن جُبير لَيستحيي أن يُحدِّث بحديثٍ وأنا جالسٌ، زيادٌ يقوله- عن عبد الله بن مَعقِل قال: دخلتُ مع أَبي على عبد الله، فقال أبي: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"النَّدم توبةٌ؟ قال: نعم، أنا سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"النَّدمُ توبةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة، إنما اتَّفقا على حديث الإفك، وقولِ رسول الله ﷺ لعائشةَ ﵂:"إنْ كنتِ بريئةً فسيُبَرِّتُكِ اللهُ، وإنْ كنتِ أَلمَمتِ بذنبٍ فاستغفرِي اللهَ وتوبي إليه، فإنَّ العبد إذا اعترف بذنبِه ثم تابَ، تاب اللهُ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة، إنما اتَّفقا على حديث الإفك، وقولِ رسول الله ﷺ لعائشةَ ﵂:"إنْ كنتِ بريئةً فسيُبَرِّتُكِ اللهُ، وإنْ كنتِ أَلمَمتِ بذنبٍ فاستغفرِي اللهَ وتوبي إليه، فإنَّ العبد إذا اعترف بذنبِه ثم تابَ، تاب اللهُ عليه" (1) .
عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں: میں اور میرے والد محترم، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے کہ ” ندامت، توبہ ہی ہے “؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” شرمندگی، توبہ ہے۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے حدیث افک بیان کی ہے اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ” اگر تو پاک دامن ہے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ تیری صفائی بیان کر دے گا، اور اگر تجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر اور معافی مانگ۔ کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7805]