🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. قُولُوا خَيْرًا تَغْنَمُوا، وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوا .
بھلی بات کہو تو فائدہ پاؤ گے اور برائی سے خاموش رہو تو سلامت رہو گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7967
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو هانئ عن عمرو بن مالك الجَنْبي، عن فَضَالة بن عُبيد، عن عُبَادة بن الصامت: أنَّ رسول الله ﷺ خرجَ ذاتَ يوم على راحلته وأصحابُه معه بين يديه، فقال معاذُ بن جَبَل: يا نبيَّ الله، ائذَنْ لي في أن أتقدَّمَ إليك على طِيبةِ نفس، قال:"نعم"، فاقتربَ معاذٌ إليه، فسارا جميعًا، فقال معاذ: بأبي أنت يا رسولَ الله، أسألُ الله أن يجعل يومَنا قبلَ يومِك، أرأيتَ إن كان شيءٌ ولا نَرَى شيئًا إن شاء الله تعالى، فأيُّ الأعمال نعملُها بعدَك؟ فصمتَ رسولُ الله ﷺ فقال:"الجهادُ في سبيل الله"، ثم قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الشيءُ الجهادُ، والذي (2) بالناس أملَكُ من ذلك" [قال] (3) : فالصيامُ والصَّدقةُ؟ قال:"نِعمَ الشيءُ الصيامُ والصَّدقةُ". فذكر معاذٌ كلَّ خير يعمله ابن آدم، كلَّ ذلك رسولُ الله ﷺ [يقول] :"وعادُ بالنَّاسِ خيرٌ من ذلك" قال: فماذا بأبي أنت وأُمِّي عادُ بالناس [خيرٌ] من ذلك؟ قال: فأشار رسولُ الله ﷺ إلى فيه، قال:"الصَّمْتُ إِلَّا من خَيرٍ" قال: وهل نؤاخَذُ بما تكلَّمَتْ به ألسنتُنا؟ قال: فضربَ رسولُ الله ﷺ فَخِذَ معاذ، ثم قال:"يا معاذُ، ثَكِلتْكَ أُمُّك - أو ما شاء الله أن يقول له من ذلك. وهل يَكُبُّ الناس على مَناخِرِهم في جَهَنَّمَ إِلَّا ما نطقَتْ به ألسنتُهم؟! فمن كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخر فليَقُلْ خيرًا أو لِيسكُتْ عن شرٍّ، قُولُوا خيرًا تَغنَمُوا، واسكتُوا عن شرٍّ تَسلَمُوا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إباحةُ دعاء المُتعلِّم لعالمه الذي يَقتبِسُ منه أن يجعل الله مَنِيّتَه قبل عالِمِه، فإني قدّمتُ قبل هذا أخبارًا صحيحة في إباحة قول الناس: جعلَني الله فِداك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7774 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر باہر تشریف لائے اور صحابہ آپ کے آگے چل رہے تھے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں خوش دلی کے ساتھ آپ کے قریب ہو کر آگے چلوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ معاذ قریب آ گئے اور دونوں ساتھ چلنے لگے۔ معاذ نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری موت آپ کی رحلت سے پہلے کر دے، (خدا نہ کرے) اگر آپ کے بعد ہمیں رہنا پڑے تو ہم کون سے اعمال کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ پھر فرمایا: جہاد بہت اچھی چیز ہے، لیکن لوگوں کے لیے اس سے بھی زیادہ قابو پانے والی ایک چیز ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا وہ روزہ اور صدقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور صدقہ بہت اچھی چیزیں ہیں، معاذ رضی اللہ عنہ نے ہر اس خیر کا ذکر کیا جو انسان کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی فرماتے: لوگوں کے لیے اس سے بھی بہتر ایک چیز ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خاموشی، سوائے بھلائی کے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ہماری زبانیں جو بولتی ہیں اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے معاذ! تمہاری ماں تمہیں کھو دے (یہ ایک عربی محاورہ ہے) - کیا لوگ اپنی زبانوں کی کٹی ہوئی فصلوں (بد کلامی) کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے؟! پس جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا شر سے خاموش رہے۔ اچھی بات کہو تو نفع پاؤ گے، اور شر سے خاموش رہو تو سلامت رہو گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس سے شاگرد کا اپنے استاد کے لیے یہ دعا کرنا کہ میں آپ سے پہلے وفات پاوں کی اباحت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ میں اس سے پہلے ایسی صحیح روایات پیش کر چکا ہوں جن میں لوگوں کے اس قول اللہ مجھے آپ پر فدا کرے «جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ» کہنے کا جواز موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7967]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7967] [ترقيم الشركة 7873] [ترقيم العلميه 7774]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں