المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ
گناہ کے کام میں نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے
حدیث نمبر: 8036
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد ابن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن محمد بن الزُّبير، عن الحسن، عن عمران بن حُصين قال: قال رسول الله ﷺ:"لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفارة يمين" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں مانی گئی نذر کی (شرعی) حیثیت نہیں، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8036]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن الزُّبير» [ترقيم الرساله 8036] [ترقيم الشركة 7939] [ترقيم العلميه 7840]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 8037
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا محمد بن الزُّبير الحَنظَلي، عن أبيه، عن رجل، عن عِمران بن حُصَين، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفَّارة يمين" (2) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں مانی گئی نذر معتبر نہیں، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8037]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل محمد بن الزُّبير، ووالده الزبير تفرَّد بالرواية عنه ابنه محمد، وفيه أيضًا رجل مبهم. عبد الوهاب بن عطاء: هو الخفّاف. وأخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 129» [ترقيم الرساله 8037] [ترقيم الشركة 7940]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 8038
حدَّثَناه عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كَثير الحِمصي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى، عن محمد بن الزُّبير الحنظلي، عن أبيه، عن عِمران بن حُصين، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا نذرَ في غضب، وكفّارتُه كفارةُ يمين" (1) . وقد أعضَلَه مَعمرٌ عن يحيى بن أبي كثير:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے میں مانی گئی نذر لازم نہیں ہوتی، اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے مانند ہے۔“
اور (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) معمر نے اسے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے معضل (سند میں انقطاع کے ساتھ) بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8038]
اور (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) معمر نے اسے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے معضل (سند میں انقطاع کے ساتھ) بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8038]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا كسابقه، ولم يذكر فيه الرجل المبهم، كما أنَّ الزبير لم يسمع من عمران، قال البيهقي 10/ 70: الزبير لم يسمع من عمران، وأسند عن محمد بن الزُّبير أنَّ أباه لم يسمع من عمران» [ترقيم الرساله 8038]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا كسابقه
حدیث نمبر: 8039
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير قال: حدثني رجلٌ من بني حَنيفة، عن عِمران بن حُصَين (1) ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا نذرَ في مَعصِيَةٍ" (2) . الرجل الذي لم يُسمِّه معمرٌ عن يحيى هو محمد بن الزُّبير بلا شكٍّ، فإنه أراد أن يقول: من بني حنظلة، فقال: من بني حنيفة، فأما قولُه ﷺ:"لا نذرَ في معصية" فقد اتَّفق عليه الشيخان (3) ، ومدار الحديث الآخر على محمد بن الزُّبير الحنظلي، وليس يصحُّ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی کے کام میں مانی گئی نذر کی کوئی حیثیت نہیں (یعنی وہ پوری نہیں کی جائے گی)۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ وہ راوی جس کا نام معمر نے یحییٰ کے واسطے سے بیان نہیں کیا وہ بلا شک محمد بن زبیر ہے، کیونکہ اس نے ”بنو حنظلہ“ کہنے کے بجائے غلطی سے ”بنو حنیفہ“ کہہ دیا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ”نافرمانی میں نذر جائز نہیں“ کا تعلق ہے تو اس پر شیخین (بخاری و مسلم) کا اتفاق ہے، جبکہ دوسری حدیث (غصے والی) کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے اور وہ (سنداً) صحیح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8039]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ وہ راوی جس کا نام معمر نے یحییٰ کے واسطے سے بیان نہیں کیا وہ بلا شک محمد بن زبیر ہے، کیونکہ اس نے ”بنو حنظلہ“ کہنے کے بجائے غلطی سے ”بنو حنیفہ“ کہہ دیا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ”نافرمانی میں نذر جائز نہیں“ کا تعلق ہے تو اس پر شیخین (بخاری و مسلم) کا اتفاق ہے، جبکہ دوسری حدیث (غصے والی) کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے اور وہ (سنداً) صحیح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8039]
تخریج الحدیث: «صحيح بهذا اللفظ، وهذا إسناده ضعيف لإبهام الرجل الحنفي، ولإرساله، وقد صحَّ من غير هذا الطريق كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8039] [ترقيم الشركة 7941]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8040
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزِير (4) ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أبو عامر الخزَّاز، عن كثير بن شِنْظير، عن الحسن، عن عمران بن حصين قال: ما خَطَبَنا رسولُ اللهِ ﷺ خُطبةً إِلَّا أَمَرَنا بالصدقة، ونهانا عن المُثْلة، قال: وقال:"إِنَّ مِن المُثْلِةِ أَن يَخزِمَ أَنفَه، وإنَّ من المُثْلِةِ أن يَنذِرَ الرجلُ أن يَحُجَّ ماشيًا، فمن نَذَرَ أن يحُجَّ ماشيًا فليُهِدِ هَدْيًا وليَركَب" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب النذور [كتاب الرقاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7843 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب النذور [كتاب الرقاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7843 - صحيح
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جب بھی کوئی خطبہ دیا تو اس میں ہمیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا اور ”مثلہ“ (انسانی اعضاء کو کاٹنے یا بگاڑنے) سے منع فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ (جانور یا انسان کی) ناک چھیدنا بھی مثلہ میں شامل ہے، اور کسی شخص کا یہ نذر ماننا کہ وہ پیدل حج کرے گا یہ بھی مثلہ (جسم کو بلاوجہ مشقت میں ڈالنا) ہے، پس جس نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہو اسے چاہیے کہ وہ ہدی (قربانی کا جانور) ذبح کرے اور (حج کے لیے) سوار ہو کر جائے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8040]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8040]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: "إنَّ من المثلة … إلخ"، وهذا إسناد ضعيف، أبو عامر الخزاز وهو صالح بن رستم» [ترقيم الرساله 8040] [ترقيم الشركة 7942] [ترقيم العلميه 7843]
الحكم على الحديث: صحيح دون قوله: "إنَّ من المثلة … إلخ"