المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. أَوَّلُ مَنْ أَعَالَ الْفَرَائِضَ عُمَرُ
میراث کے حصوں میں سب سے پہلے 'عول' کا طریقہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رائج کیا
حدیث نمبر: 8184
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن عبد الله المَدِيني، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، قال: حدثنا [محمد بن] (1) مسلم بن عبد الله بن شِهَاب، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس أنه قال: أولُ من أعالَ الفرائضَ عمرُ وايمُ اللهِ، لو قدَّم من قدَّم اللهُ وأخَّر مَن أخَّر الله ما عالَتْ فريضةٌ. فقيل له: وأَيُّها قدَّم الله وأَيُّها أخَّر؟ فقال: كلُّ فريضة لم يُهبِطُها اللهُ ﷿ عن فريضةٍ إلَّا إلى فريضة، فهذا ما قدَّم الله ﷿، وكلُّ فريضة إذا زالت عن فَرْضِها لم يكن لها إِلَّا ما بقي، فتلك التي أخَّر الله ﷿ كالزوج والزوجة والأمِّ، والذي أَخَّر كالأخَوات والبنات، فإذا اجتمعَ مَن قدَّم الله ﷿ وأخر بُدِئَ بمَن قَدَّم فأُعطِي حقَّه كاملًا، فإن بَقِيَ شيءٌ كان لمن أخَّر، وإن لم يَبْقَ شيءٌ فلا شيءَ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7985 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7985 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فرائض (وراثت کے حصوں) میں سب سے پہلے «عول» (کمی بیشی) کا فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، اللہ کی قسم! اگر لوگ انہیں مقدم رکھتے جنہیں اللہ نے مقدم رکھا ہے اور انہیں موخر کرتے جنہیں اللہ نے موخر کیا ہے تو کسی فریضے میں کبھی «عول» کی ضرورت نہ پڑتی۔“ ان سے پوچھا گیا: اللہ نے کن کو مقدم اور کن کو موخر کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ہر وہ حقدارِ وراثت جس کا حصہ اللہ عزوجل نے ایک طے شدہ مقدار سے دوسری طے شدہ مقدار کے سوا کبھی کم نہیں کیا، یہ وہ ہیں جنہیں اللہ نے مقدم کیا ہے، اور ہر وہ حقدارِ وراثت جس کا طے شدہ حصہ جب (دوسروں کی موجودگی کی وجہ سے) زائل ہو جائے تو اسے صرف وہی ملتا ہے جو بچ جائے، تو یہ وہ ہیں جنہیں اللہ نے موخر کیا ہے؛ جیسے کہ شوہر، بیوی اور ماں (مقدم ہیں) اور جنہیں موخر کیا گیا وہ بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ پس جب اللہ کے مقدم اور موخر کردہ ورثاء جمع ہو جائیں تو پہلے اس سے آغاز کیا جائے گا جسے اللہ نے مقدم کیا ہے اور اسے اس کا پورا حق دیا جائے گا، پھر اگر کچھ بچ جائے گا تو وہ ان کے لیے ہوگا جنہیں موخر کیا گیا ہے اور اگر کچھ نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8184]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8184]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 8184] [ترقيم الشركة 8084] [ترقيم العلميه 7985]
الحكم على الحديث: إسناده حسن