المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. الِاحْتِيَاطُ عِنْدَ ضَرْبِ الْحَدِّ
حد مارتے وقت احتیاط برتنے کا بیان
حدیث نمبر: 8305
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيِه، حدَّثنا محمد بن أحمد بن النَّضر الأزدي، حدَّثنا معاوية بن عمرو، حدَّثنا زائدة، عن السُّدّي، عن سعد بن عُبيدة، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، قال: خَطَبَ عليٌّ فقال: يا أيها الناس، أقِيمُوا الحدود على أرقَّائِكم، مَن أحصَنَ منهنَّ ومَن لم يُحصَنْ، فإنَّ أُمَةً لرسول الله ﷺ زَنَتْ، فأمرني رسولُ الله ﷺ أن أجلِدَها، فأتيتُها فإذا هي حديث عهدٍ بنِفَاس، فخشيتُ إن أنا جلدتُها أن أقتلَها وأن تموت، فأتيتُ رسول الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فقال:"أحسَنتَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8106 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8106 - على شرط مسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حدود قائم کرو، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے بدکاری کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسے کوڑے مارنے کا حکم دیا، میں اس کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس کا ابھی حال ہی میں نفاس (بچے کی ولادت) ہوا ہے، مجھے ڈر لگا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو کہیں وہ مر نہ جائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔““
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8305]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8305]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8305] [ترقيم الشركة 8206] [ترقيم العلميه 8106]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح