🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. الْبَرْنِيُّ خَيْرُ تُمُورِكُمْ لَا دَاءَ فِيهِ
برنی تمہاری بہترین کھجور ہے، اس میں کوئی بیماری نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8447
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل الجُعْفيّ، حَدَّثَنَا قيس بن حفص الدَّارمي، حَدَّثَنَا طالب بن حُجَيْر، حدثني هُود (4) بن عبد الله، عن جدِه مَزِيدةَ قال: لما قَدِمْنا على النَّبِيّ ﷺ أَخرجوا إلى النَّبِيّ ﷺ تمرًا من تَمَراتِهم، فجعلوا يأكلونه، فسمَّى تلك التمراتِ بأسمائِهم، فقالوا: ما نحن بأعلمَ يا رسول الله بأسمائِها (5) منك، ثم قال لرجُلٍ:"أطْعِمْنا من بقيّة المقربين (6) "فقال النَّبِيّ ﷺ:"هذا البَرْني، وهو خيرُ تُمُورِكم، هو دواءٌ لا داءَ فيه" (7) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8243 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا مزیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی کھجوروں میں سے کچھ کھجوریں پیش کیں، سب مل کر اسے کھانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کھجوروں کو ان کے ناموں سے پکارنے لگے، صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بھی ان کے ناموں کو آپ سے زیادہ نہیں جانتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ہمیں بقیہ مقربین میں سے کھلاؤ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ برنی (کھجور) ہے اور یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے بہترین ہے، یہ ایسی دوا ہے جس میں کوئی بیماری نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8447]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين إن شاء الله، وهذا إسناد فيه لِينٌ، هود بن عبد الله لم يرو عنه غير طالب بن حجير، وطالب صدوق لا بأس به، أما هود فلم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقد خرَّج له البخاري في "الأدب المفرد" (587) بعضًا من حديثه الطويل في قصة وفد ...» [ترقيم الرساله 8447] [ترقيم الشركة 8345] [ترقيم العلميه 8243]

الحكم على الحديث: حديث محتمل للتحسين إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8448
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب وعلي بن عبد الله العطار ببغداد، قالا: حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدوري، حَدَّثَنَا يونس بن محمد المُؤدِّب، حَدَّثَنَا فُليح بن سليمان، عن أيوب بن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي صَعْصَعة، عن يعقوب بن أبي يعقوب، عن أُمِّ المُنذر العدوية قالت: دخل علي رسول الله ﷺ ومعه عليٌّ وهو ناقِهٌ، قالت: ولنا دوالي معلَّقة، قالت: فقام رسول الله ﷺ فأكل، وقام علي فأكل، فقال النَّبِيّ ﷺ:"مهلًا يا عليُّ، فإنك ناقِهٌ" قالت: فجلس علي وأكل منها النَّبِيّ ﷺ، ثم صنعتُ لهم سلقًا وشعيرًا، فقال النَّبِيّ ﷺ:"من هذا أَصِبِ الآنَ يا علي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8244 - صحيح
ام منذر عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ان کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے جو کہ ابھی بیماری سے اٹھے ہی تھے (اور ناتواں تھے)، وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس لٹکے ہوئے کھجور کے خوشے موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تناول فرمانا شروع کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے لگے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! رک جاؤ، تم ابھی کمزوری کی حالت میں ہو، وہ کہتی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رک گئے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اب اس میں سے کھاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8448]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما سلف بيانه برقم (7640)» [ترقيم الرساله 8448] [ترقيم الشركة 8346] [ترقيم العلميه 8244]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں