سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب فِي صَوْمِ يَوْمٍ وَفِطْرِ يَوْمٍ
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن چھوڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يُفْطِرُ يَوْمًا وَيَصُومُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے: وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے (تہجد پڑھتے)، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے، ایک دن رکھتے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2448]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے، سیدنا داود علیہ السلام کے ہیں، اور سب سے پسندیدہ نماز، اللہ تعالیٰ کے ہاں سیدنا داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات سوتے، پھر تہائی رات قیام کرتے اور پھر اس کا چھٹا حصہ سوتے تھے، اور وہ ایک دن افطار اور ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/قیام اللیل 7 (1131)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن النسائی/الصیام 40 (2346)، سنن ابن ماجہ/الصیام 31 (1712)، (تحفة الأشراف: 8897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/206)، دی/ الصوم (42 (1793) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1131) صحيح مسلم (1159)