🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. هَلَاكُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ دُودٍ يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ
یاجوج و ماجوج کی ہلاکت ان کی گردنوں میں پیدا ہونے والے کیڑوں کے ذریعے ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8713
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر (1) ، عن عيَّاش بن أبي رَبيِعة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تجيءُ الريحُ بين يَدَيِ الساعة فتَقبِضُ روحَ كلِّ مؤمن" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8503 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عیاش ابن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک ہوا آئے گی جو ہر مومن کی روح کو قبض کر لے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8713]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8714
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونسُ بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتادة الأنصاري ثم الظَّفَري، عن محمود بن لَبِيد - أخو بني عبدِ الأشهل - عن أبي سعيد الخُدْري قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تُفتَحُ يأجوجُ ومأجوجُ يَخرُجون على الناس كما قال الله تعالى: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [الأنبياء: 96] ، فيَعِيثُون في الأرض، ويَنحازُ المسلمون إلى مَدائنِهم وحُصونِهم، ويَضُمُّون إليهم مواشيَهم، ويشربون مياهَ الأرض، حتى إنَّ بعضهم لَيَمرُّ بالنهر فيشربون ما فيه حتى يتركوه يابسًا، حتى إن مَن بعدَهم لَيَمُرُّ بذلك النهر فيقول: لقد كان هاهنا ماءٌ مرّةً، حتى إذا لم يَبْقَ من الناس أحدٌ إِلَّا أَخَذ في حصن أو مدينةٍ قال قائلهم: هؤلاءِ أهلُ الأرض قد فَرَغْنا منهم، بقيَ أهلُ السماء، قال: ثم يَهُزُّ أحدُهم حَرْبتَه ثم يَرمي بها إلى السماء، فتَرجِعُ مُخضَّبةً دمًا للبلاءِ والفِتنة، فبينما هم على ذلك بَعَثَ الله عليهم دُودًا في أعناقهم كالنَّغَفِ، فيخرجُ في أعناقهم، فيُصبِحون موتى لا يُسْمَعُ لهم حِسٌّ، فيقول المسلمون: ألا رجلٌ يَشْري لنا بنفسه فينظرُ ما فعل هذا العدوُّ، قال: ثم يتجرَّدُ رجلٌ منهم لذلك مُحتسِبًا بنفسه، فرابَطَها (3) على أنه مقتول، فيَنزِلُ فيَجدُهم موتى بعضُهم على بعض، فينادي: يا معشرَ المسلمين، أَبشِروا، فإنَّ الله قد كَفَاكم عدوَّكم، فيخرجون من مدائنِهم وحصونِهم، ويُسرِّحُون مواشيَهم، فما يكون لها رِعْيٌ إلَّا لحومُهم، فتَشكَرُ عنه كأحسنِ ما شَكِرَت عن شيءٍ من النَّبات أصابَتْه قطُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8504 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا، یہ لوگوں پر حملہ آور ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبياء: 96) یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے یہ زمین میں فساد کریں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں سے ہٹ جائیں گے اور لوگوں کے مال اور مویشی اپنے ساتھ ملا لیں گے، اور زمین کے تمام پانی پی جائیں گے، حتی کہ ان میں سے ایک شخص کسی نہر سے گزرے گا، تو اس کا سارا پانی پی جائے گا، اور وہ نہر خشک ہو جائے گی، اس کے بعد کوئی آدمی وہاں سے گزرتا ہوا اس نہر کو دیکھ کر کہے گا: کبھی اس نہر میں بہت پانی ہوا کرتا تھا۔ جب کوئی بھی انسان باقی نہیں بچے گا، سوائے ان کے جو کسی قلعے میں یا شہر میں پناہ گزیں ہوں گے، تو ان میں سے ایک کہے گا: ہم زمین والوں سے تو فارغ ہو گئے ہیں، اب آسمان والے باقی رہتے ہیں، پھر ایک شخص اپنا نیزہ آسمان کی جانب پھینکے گا، وہ خون آلود ہو کر اور آزمائش بن کر واپس آئے گا، اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ ان کی گردن میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا، اور وہ ان کی گردنوں سے نکلے گا، اور صبح کے وقت سب مر چکے ہوں گے، ان کی کوئی آواز سنائی نہیں دے گی، مسلمان کہیں گے؟ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو ہمارے لئے اپنی جان کو بیچ دے، وہ ان دشمنوں کی یہ حالت دیکھے گا، پھر ان میں سے ایک آدمی اپنی قربانی دینے کی نیت سے ان سے الگ ہو گا اور وہ اپنے قتل ہونے کا مکمل یقین کرتے ہوئے نیچے اترے گا، وہ دیکھے گا کہ سب ایک دوسرے کے اوپر مرے پڑے ہیں، وہ آواز دے کر کہے گا: اے مسلمانوں تمہیں مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کا صفایا کر دیا ہے، پھر مسلمان اپنی بستیوں اور قلعوں سے باہر آ جائیں گے، اور وہ اپنے مویشیوں کو ڈھونڈیں گے، لیکن ان کو صرف ان کا گوشت ملے گا، وہ اس کا شکر ادا کریں گے، جیسے کہ کوئی جڑی بوٹی کو جب بارش مل جائے تو وہ شکر ادا کرتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8714]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں