المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
135. لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ حَتَّى يَأْتِي أَمْرُ اللَّهِ
میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور منصور رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے
حدیث نمبر: 8865
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا مِسعَر، عن عُبيد أبي الحسن، عن ابن عبد الله بن مُغفَّل قال: أراد ابنٌ لعبد الله بن سَلَام يخرجُ نحو الشام، فاطَّلَع عليه عبدُ الله من فوق بيتٍ فقال: يا بنيَّ، لا تَفجَعْني بنفسِك، فليَأْتِيَنَّ من الشام صَريحُ كلِّ مسلم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8652 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8652 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام کے بیٹے شام کی جانب جا رہے تھے، سیدنا عبداللہ نے اپنے گھر کی چھت کے اوپر سے ان کو دیکھ لیا، اور بولے: اے بیٹے! خود کو آزمائش میں مت ڈالو، شام سے مسلمانوں کی چیخوں کی آوازیں آئیں گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8865]
حدیث نمبر: 8866
أخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، أخبرنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا عُبيد الله (2) بن عمر بن مَيسَرة، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي الأسود الدِّيلِيّ، قال: انطلقتُ أنا وزُرْعةُ بن ضَمْرة [مع] (3) الأشعريِّ إلى عمر بن الخطَّاب فلَقِينا عبدَ الله بنَ عمرو، فقال: يوشكُ أن لا يبقى في أرض العَجَم من العرب إلَّا قتيلٌ أو أسيرٌ يُحكَمُ في دمه، فقال زرعةُ: أيظهرُ المشركون على الإسلام؟ فقال: ممَّن أنت؟ قال: من بني عامر بن صَعصَعة، فقال: لا تقومُ الساعةُ حتى تَدَافِعَ نساءُ بني عامر على ذي الخَلَصةِ؛ وَثَنٌ كان يُسمَّى في الجاهلية. قال: فذكرنا ذلك لعمر بن الخطَّاب؛ قولَ عبد الله بن عمرو، فقال عمرُ ثلاثَ مِرار: عبدُ الله بن عمرو أعلمُ بما يقول. فخَطَبَ عمرُ بن الخطّاب يومَ الجمعة فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تزالُ طائفةٌ من أمَّتي على الحقِّ منصورين (4) حتى يأتيَ أمرُ الله". قال: فذكرْنا قولَ عمر لعبد الله بن عمرو، فقال: صَدَقَ نبيُّ الله ﷺ، إذا كان ذلك، كان الذي (1) قلتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8653 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8653 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالاسود دیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور زرعہ بن ضمرہ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا: قریب ہے کہ سرزمین عجم پر عربیوں میں سے صرف ایک مقتول یا ایک قیدی باقی بچے گا جس کے خون کا فیصلہ کر دیا جائے گا، سیدنا زرعہ نے کہا: کیا مشرکین، مسلمانوں پر غالب آ جائیں گے؟ انہوں نے پوچھا: تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں بنی عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک بنی عامر کی عورتیں ذی الخلصہ کا دفاع نہیں کریں گی، جاہلیت میں اس کو وثن کہا جاتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا قول سنایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ کہا: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اپنے قول کے بارے میں بہتر جانتے ہیں، پھر جمعہ کے دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی ان کی مدد کی جاتی رہے گی حتی کہ اللہ کا حکم آ جائے، آپ فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: اگر بات وہی ہے جو تم نے کہی ہے تو اللہ تعالیٰ کے نبی علیہ السلام نے بالکل سچ فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8866]