المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ .
لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
حدیث نمبر: 8956
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي قال: سألتُ مُرّةً عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [مريم: 71] فحدَّثَني أنَّ عبد الله بن مسعود حدَّثَهم، أن رسول الله ﷺ قال:"يَرِدُ الناسُ النارَ ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم، فأولُهم كلَمْح البَرْق، ثم كالرِّيحِ، ثم كحُضْرِ الفَرَس، ثم كالراكب في رَحْلِه، ثم كشَدِّ الرَّجُل (1) ثم كمَشْيِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رواه شعبةُ عن إسماعيل السُّدّي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8741 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رواه شعبةُ عن إسماعيل السُّدّي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8741 - على شرط مسلم
سدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے مرہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ ”اور تم میں سے کوئی (ایسا) نہیں مگر وہ اس (جہنم) پر سے گزرنے والا ہے۔“ [سورة مريم: 71] کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ جہنم پر وارد ہوں گے (یعنی پل صراط سے گزریں گے)، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق اس سے واپس (پار) ہوں گے، چنانچہ ان میں سے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی طرح، پھر ہوا کی طرح، پھر تیز رفتار گھوڑے کی طرح، پھر اونٹ کے کجاوے پر سوار شخص کی طرح، پھر آدمی کے دوڑنے کی طرح، اور پھر اس کے پیدل چلنے کی طرح گزریں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے شعبہ نے اسماعیل سدی سے بھی روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8956]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے شعبہ نے اسماعیل سدی سے بھی روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8956]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل السدي» [ترقيم الرساله 8956] [ترقيم الشركة 8847] [ترقيم العلميه 8741]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8957
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، أخبرنا أبو بكر بن أبي العَوَّام، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعبة، عن السُّدِّي، عن مُرَّةَ، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصُدرون عنها بأعمالِهم (3) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ اس پر وارد ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بقدر اس سے پار ہو جائیں گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8957]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن كسابقه» [ترقيم الرساله 8957] [ترقيم الشركة 8848]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8958
حدَّثَنيه أبو علي الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسَائي، حدثنا محمد بن المثَّنى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعبة، عن السُّدّي، عن مُرّة، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم. قال عبد الرحمن بن مَهْدي: فحدَّثتُ شعبةَ عن إسرائيلَ عن السُّدِّي عن مُرّة عن عبد الله مرفوعًا عن النبي ﷺ، [قال: شعبةُ وقد سمعتُه من السُّدّي مرفوعًا] (1) ولكني أَدَعُه عَمْدًا (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ اس پر وارد ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بقدر اس سے پار ہو جائیں گے۔“ عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں: میں نے شعبہ سے یہ حدیث بطریق اسرائیل، سدی، مرہ اور عبداللہ کے واسطے سے مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی، تو شعبہ نے کہا: ”میں نے بھی اسے سدی سے مرفوعاً سنا ہے لیکن میں نے جان بوجھ کر اسے (مرفوع بیان کرنے کو) ترک کر دیا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8958]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8958] [ترقيم الشركة 8849]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8959
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا أبو صالح غالب بن سليمان، عن كَثير بن زيادٍ أبي سهل، عن مُسَّةَ الأزْديَّة، عن عبد الرحمن بن شَيْبة قال: اختلَفْنا هاهنا في الوُرود، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم يُنجِّي الله الذين اتَّقَوا [فَلَقِيتُ جابر بن عبد الله فسألته، فقال: يدخلونها جميعًا ثم يُنجي الله الذين اتَّقَوا] (3) فقلت له: إنا اختلفنا فيها بالبصرة، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم ينجِّي الله الذين اتَّقَوْا، فأهوى بإصبَعيهِ إلى أُذنيه فقال: صُمَّتا إن لم أكن سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوُرودُ الدخولُ، لا يبقى بَرٌّ ولا فاجرٌ إلَّا دخلها، فتكون على المؤمن بردًا وسلامًا كما كانت على إبراهيمَ، حتى إنَّ للنار - أو قال: لجهنَّم - ضجيجًا من بَرْدِها (4) ، قال: ثم يُنجِّي اللهُ الذين اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظالمين فيها جِثِيًّا" (5)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8744 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8744 - صحيح
عبدالرحمن بن شیبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارا یہاں (آیت میں مذکور لفظ) ورود (وارد ہونے) کے متعلق اختلاف ہو گیا، تو ایک گروہ نے کہا کہ اس میں کوئی مومن داخل نہیں ہوگا، اور دوسروں نے کہا کہ وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔“ میں نے ان سے عرض کی: ہمارا بصرہ میں اس بارے میں اختلاف ہوا ہے، ایک گروہ کہتا ہے کہ کوئی مومن اس میں داخل نہیں ہوگا، اور دوسرے کہتے ہیں کہ سب داخل ہوں گے، پھر اللہ متقیوں کو نجات دے گا۔ یہ سن کر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں کی طرف کیں اور فرمایا: ”میرے یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: ورود سے مراد داخل ہونا ہے، کوئی نیک اور بد ایسا باقی نہیں رہے گا جو اس میں داخل نہ ہو، مگر وہ (آگ) مومن پر اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے وہ ابراہیم (علیہ السلام) پر بن گئی تھی، یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی، چیخ و پکار سنائی دے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8959]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8959]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة مسة الأزدية، ولاضطراب كثير بن زياد فيه» [ترقيم الرساله 8959] [ترقيم الشركة 8850] [ترقيم العلميه 8744]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة مسة الأزدية
حدیث نمبر: 8960
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجرّاح العَدْل بمَرُو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا داود بن الزِّبْرِقان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن مُرّة الهَمْداني: أنَّ ابن مسعود سُئل عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾، قال: وإن منكم إلَّا داخِلُها ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ثم يُنجِّي الله الذين اتقوا ويذرُ الظالمين فيها جِثِيًّا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داود
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داود
مرہ ہمدانی سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [سورة مريم: 71] کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اور تم میں سے کوئی (ایسا) نہیں مگر وہ اس میں داخل ہونے والا ہے۔“ ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ”یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔“ [سورة مريم: 71] (پھر فرمایا:) ”پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8960]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8960]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل داود بن الزبرقان، فإنه متروك الحديث» [ترقيم الرساله 8960] [ترقيم الشركة 8851] [ترقيم العلميه 8745]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل داود بن الزبرقان
حدیث نمبر: 8961
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري وعلي بن عيسى بن إبراهيم قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عُبَيد بن عَبِيدة القُرشي، حدثنا المُعتمِر بن سليمان قال: سمعت أبي يقول: حدثنا قَتادة، عن عُقْبة بن عبد الغافر، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَيَأْخُذَنَّ (2) رجلٌ بيد أَبيه يومَ القيامة، فلُيقطِّعنَّه النارَ يريد أن يُدخِلَه الجنةَ، قال: فيُنادَى: إِنَّ الجنةَ لا يَدخلُها مشركٌ، ألا إِنَّ الله قد حرَّمَ الجنةَ على كل مشركٍ، قال: فيقول: أيْ ربِّ، أَبي، فيُحوَّل في صورة قبيحةٍ وريحٍ مُنتِنة، فيتركُه". قال: فكان أصحابُ رسولَ الله ﷺ يرونَ أنه إبراهيمُ ﵇، ولم يَزِدْهم رسولُ الله ﷺ على ذلك (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8746 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8746 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک شخص اپنے والد کا ہاتھ پکڑے گا، اور اسے آگ سے پار کراتے ہوئے یہ چاہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس آواز دی جائے گی: بے شک جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو سکتا، سن لو! بے شک اللہ نے ہر مشرک پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! (یہ) میرے والد (ہیں)۔ چنانچہ اس کے والد کو ایک نہایت قبیح اور بدبودار صورت میں تبدیل کر دیا جائے گا، تو وہ اسے چھوڑ دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا یہ خیال تھا کہ وہ شخص سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس سے زیادہ کچھ بیان نہیں فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8961]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8961]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8961] [ترقيم الشركة 8852] [ترقيم العلميه 8746]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8962
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا سعيد بن محمد الحَجْواني بالكوفة، حدثنا وكيع بن الجرَّاح، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: بَكَى عبد الله بن رَوَاحة فبَكَت، امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني نُبِّئتُ أني واردُها، ولم أُنبَّأْ أني صادرٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روئے تو ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رو پڑی۔ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ خبر تو دی گئی ہے کہ میں اس (جہنم) پر وارد ہونے والا (پل صراط سے گزرنے والا) ہوں، لیکن یہ خبر نہیں دی گئی کہ میں اس سے پار ہونے والا بھی ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8962]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8962]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير سعيد بن محمد الحجواني، فقد ضعَّفه الدارقطني كما في "سؤالات الحاكم له" (109)، لكنه لم ينفرد به» [ترقيم الرساله 8962] [ترقيم الشركة 8853]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير سعيد بن محمد الحجواني
حدیث نمبر: 8963
حدثنا أبو العباس محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكَّة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كان عبدُ الله بن رَوَاحةً واضعًا رأسَه في حَجْرِ امرأتِه، فبكى فبَكَت امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني ذكرتُ قول الله ﷿: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ فلا أدري أنَنجُو منها أم لا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8748 - فيه إرسال
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8748 - فيه إرسال
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی گود میں سر رکھے ہوئے تھے کہ وہ رو پڑے، تو ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رو پڑی۔ انہوں نے فرمایا: ”مجھے اللہ عزوجل کا یہ فرمان یاد آ گیا: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ”یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔“ [سورة مريم: 71] تو مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس (آگ) سے نجات پائیں گے یا نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8963]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8963]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 10» [ترقيم الرساله 8963] [ترقيم الشركة 8854] [ترقيم العلميه 8748]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات.