المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. إِنَّ الْبَحْرَ هُوَ جَهَنَّمَ
بے شک سمندر ہی جہنم ہے
حدیث نمبر: 8977
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الله بن أبي أُميَّة، أخبرني صفوان بن يَعْلى، أَنَّ يَعْلى قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ البحر هو جهنَّم". فقالوا ليعلى: قال الله ﷿: ﴿نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا﴾ [الكهف: 29] ! فقال: والذي نفسي بيده، لا أدخلُها أبدًا حتى ألقى الله، ولا تصيبُني منها قطرةٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد. ومعناه: أنَّ البحر صعبٌ كأنه جهنّم، ولذلك فرّع على إخراج حديث عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ: إن تحت البحر نارًا، وتحت النار بحرًا، فأما النارُ فإنها تحتَ السابعة" (1) . وقد شَهِدَ الصحابةُ فمَن بعدهم على رؤية دخانها!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8762 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد. ومعناه: أنَّ البحر صعبٌ كأنه جهنّم، ولذلك فرّع على إخراج حديث عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ: إن تحت البحر نارًا، وتحت النار بحرًا، فأما النارُ فإنها تحتَ السابعة" (1) . وقد شَهِدَ الصحابةُ فمَن بعدهم على رؤية دخانها!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8762 - صحيح
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سمندر ہی جہنم ہے۔“ لوگوں نے یعلیٰ سے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا﴾ ”ایک ایسی آگ جس کی قناعتوں نے انہیں گھیر رکھا ہوگا۔“ [سورة الكهف: 29] تو انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اللہ سے ملاقات تک کبھی اس میں داخل نہیں ہوں گا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہیں پہنچے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سمندر اس قدر دشوار گزار ہے گویا وہ جہنم ہے۔ اسی لیے اس پر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس حدیث کی تخریج متفرع ہوتی ہے کہ ”سمندر کے نیچے آگ ہے، اور آگ کے نیچے سمندر ہے، اور رہی آگ تو وہ ساتویں زمین کے نیچے ہے۔“ اور صحابہ کرام اور ان کے بعد والوں نے اس کے دھوئیں کو دیکھنے کی گواہی دی ہے! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8977]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سمندر اس قدر دشوار گزار ہے گویا وہ جہنم ہے۔ اسی لیے اس پر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس حدیث کی تخریج متفرع ہوتی ہے کہ ”سمندر کے نیچے آگ ہے، اور آگ کے نیچے سمندر ہے، اور رہی آگ تو وہ ساتویں زمین کے نیچے ہے۔“ اور صحابہ کرام اور ان کے بعد والوں نے اس کے دھوئیں کو دیکھنے کی گواہی دی ہے! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8977]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وقد وقع فيه عند المصنف وهمٌ أو سقطٌ من الناسخ، فإنَّ الحديث لا يعرف إلَّا من رواية عبد الله بن أمية بن أبي عثمان القرشي عن محمد بن حُيَي عن صفوان بن يعلى، ومحمد بن حيي هذا وهو ابن يعلى بن أمية» [ترقيم الرساله 8977] [ترقيم الشركة 8868] [ترقيم العلميه 8762]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8978
كما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا يحيى بن حمَّاد، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثني عبد الله بن فَيْروزَ الداناجُ، حدثني طَلْق بن حبَيب قال: سمعت جابر بن عبد الله الأنصاريَّ يقول: رأيتُ الدُّخانَ من مسجد الضِّرارِ حين انهارَ (3) . هذا إسناد صحيح. وقد حدَّثني جماعةٌ من أصحابنا الغُرباء أنهم عرفوا هذا المسجدَ وشاهدوا هذا الدُّخان، وقد قدَّمتُ الروايةَ الصحيحة أنَّ جهنَّم تحت الأرض السابعة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8763 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8763 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے مسجد ضرار کے منہدم ہونے کے وقت اس سے دھواں اٹھتے دیکھا تھا۔“
یہ سند صحیح ہے۔ اور مجھے باہر سے آنے والے ہمارے کئی ساتھیوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اس مسجد کو پہچانا ہے اور اس دھوئیں کا مشاہدہ کیا ہے، اور میں پہلے یہ صحیح روایت پیش کر چکا ہوں کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8978]
یہ سند صحیح ہے۔ اور مجھے باہر سے آنے والے ہمارے کئی ساتھیوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اس مسجد کو پہچانا ہے اور اس دھوئیں کا مشاہدہ کیا ہے، اور میں پہلے یہ صحیح روایت پیش کر چکا ہوں کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8978]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل طلق بن حبيب» [ترقيم الرساله 8978] [ترقيم الشركة 8869] [ترقيم العلميه 8763]
الحكم على الحديث: إسناده جيد