المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. إِنَّ الْبَحْرَ هُوَ جَهَنَّمَ
بے شک سمندر ہی جہنم ہے
حدیث نمبر: 8976
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن [سعيد بن] (2) أبي هلال، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، أنه سمع أبا هريرة يقول: إِنَّ ضِرسَ الكافر يومَ القيامة مثلُ أحد، ورأسه مثلُ البَيضاء، وفَخِذَه مثلُ وَرِقانَ، وغِلَظَ جلدِه سبعون ذراعًا، وإنَّ مجلسَه في النار كما بينَ المدينةِ والرَّبَذة. قال أبو هريرة: وكان يقال: بطنُه مثلُ بطن إضَمٍ (3) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه لتوقيفه على أبي هريرة ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8761 - موقوف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8761 - موقوف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی، اس کا سر بیضاء پہاڑ کی طرح ہو گا، اس کی ران ورقان پہاڑ کی طرح ہو گی، اس کے چمڑے کی موٹائی ستر گز ہو گی، اور دوزخ میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنی مدینہ سے ربذہ تک کی مسافت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ اس کا پیٹ اضم ٹیلے کی وادی جتنا بڑا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ کیونکہ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک موقوف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8976]
حدیث نمبر: 8977
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الله بن أبي أُميَّة، أخبرني صفوان بن يَعْلى، أَنَّ يَعْلى قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ البحر هو جهنَّم". فقالوا ليعلى: قال الله ﷿: ﴿نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا﴾ [الكهف: 29] ! فقال: والذي نفسي بيده، لا أدخلُها أبدًا حتى ألقى الله، ولا تصيبُني منها قطرةٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد. ومعناه: أنَّ البحر صعبٌ كأنه جهنّم، ولذلك فرّع على إخراج حديث عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ: إن تحت البحر نارًا، وتحت النار بحرًا، فأما النارُ فإنها تحتَ السابعة" (1) . وقد شَهِدَ الصحابةُ فمَن بعدهم على رؤية دخانها!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8762 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد. ومعناه: أنَّ البحر صعبٌ كأنه جهنّم، ولذلك فرّع على إخراج حديث عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ: إن تحت البحر نارًا، وتحت النار بحرًا، فأما النارُ فإنها تحتَ السابعة" (1) . وقد شَهِدَ الصحابةُ فمَن بعدهم على رؤية دخانها!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8762 - صحيح
سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک بحر دوزخ ہے۔ لوگوں نے سیدنا یعلیٰ سے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے {نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا} [الكهف: 29] ” ہم نے کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے اس کی دیواریں اسے گھیر لیں گی “ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا جب تک میں اللہ تعالیٰ سے مل نہ لوں، اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہیں چھو سكتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اس کا معنی یہ ہے كہ سمندر گہرا ہے گویا كہ وہ جہنم ہو، اور یہ حدیث اس حدیث كی فرع ہے، جس میں انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل كیا ہے كہ سمندر کے نیچے آگ ہے، اور آگ کے نیچے پھر سمندر ہے۔ اور ساتویں زمین کے نیچے (بھی) آگ ہے۔ كئی صحابہ كرام نے اور ان کے بعد والوں نے اس کا دھواں اٹھنے کا مشاہدہ بھی كیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8977]