🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. بَابُ الْغُسْلِ مِنَ الِاحْتِلَامِ
احتلام کی وجہ سے غسل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ قَالَ:"نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ"  .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا (ابو طلحہ کی اہلیہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو جائے تو اس پر غسل فرض ہے؟ فرمایا: ہاں! جب وہ پانی دیکھے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، العلم، باب الحياء فى العلم (130) (282)، ومسلم، الحيض، باب وجوب الغسل على مرأة بخروج المني منها (313).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْجُرْفِ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدِ احْتَلَمَ، وَصَلَّى وَلَمْ يَغْتَسِلْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَانِي إِلَّا قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّيْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ. قَالَ: فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ، وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ، وَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى مُتَمَكِّنًا.   أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ.
زبید بن صلت سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جرف کی طرف گیا، انہوں نے دیکھا کہ وہ تو احتلام سے ہیں اور غسل کیے بغیر نماز پڑھ لی ہے، تو فرمایا: اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ میں احتلام سے ہوں اور میں نے غسل بھی نہیں کیا اور نماز پڑھ لی ہے۔ زبید کہتے ہیں انہوں نے غسل کیا اور کپڑے کو جہاں منی نظر آ رہی تھی اس جگہ سے دھویا اور جہاں سے نہیں دکھائی دیتی تھی پانی چھڑک دیا، اذان اور اقامت کہی پھر سورج کے بلند ہو جانے کے بعد نماز پڑھی۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه البيهقي: 2/ 399 وفى المعرفة السنن والآثار له (264) وما لك في المؤطا، الطهارة، باب اعادة الجنب الصلوة وغسله اذا صلي ولم يذكر وغسله ثوبه»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں