🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ الْغَزْوِ بِالنِّسَاءِ وَحَذْوِهِنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ
عورتوں کے ساتھ جہاد کرنے اور انہیں مالِ غنیمت میں سے حصہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ [ ص: 45 ] مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ: أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَالَ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَلَمْ يَكُنْ يُضْرَبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَلَكِنْ يُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ.
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں شریک کرتے تھے؟ اور کیا ان کے لیے (مالِ غنیمت سے) کوئی حصہ مقرر کرتے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں ساتھ لاتے، وہ زخمیوں کی دوا دارو کرتیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کوئی باقاعدہ حصہ نہیں دیتے تھے، البتہ انہیں غنیمت سے کچھ ضرور دیتے تھے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الجِهَادِ وَقَسْمِ الغَنَائِمِ/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 29/9، 30 وفى المعرفة السنن والآثار له (5306)، (5345).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1764
أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ، يَعْنِي: ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ: أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ، فَكَتَبَ نَجْدَةُ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ. وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قُتِلَ فَتُمَيِّزَ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَكَتَبْتَ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَشِيبُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ ضَعِيفُ الْإِعْطَاءِ، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ. وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمُسِ، وَإِنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَيْهِ. [ ص: 46 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ، وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَالثَّانِي مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
يزيد بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر کچھ باتیں پوچھیں۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس حروریہ کو لکھتے ہیں، اور اگر مجھے علم چھپانے کی سزا کا خوف نہ ہوتا تو میں اسے کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کی طرف لکھا تھا کہ حمد و ثنا کے بعد مجھے بتائیے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں عورتوں کو ساتھ رکھتے تھے؟ اور کیا انہیں (مال غنیمت سے) حصہ دیتے تھے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل کرتے تھے؟ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور خمس کس کا ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے (جواب میں) لکھا: تو نے میرے پاس خط لکھا اور مجھ سے سوال پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں ساتھ لاتے تھے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لاتے تھے اور وہ مریضوں کو دوائی دیتیں اور انہیں غنیمت سے کچھ (بطور انعام) دیا جاتا تھا۔ ہاں البتہ ان کے لیے علیحدہ حصہ نہیں نکالا جاتا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کافروں کے) بچوں کو قتل نہیں کیا لہذا تم بھی ان کو نہ مارو، مگر یہ کہ تجھے بھی خضر علیہ السلام کی طرح کسی بچے کے متعلق وہ علم ہو جائے جو خضر علیہ السلام کو تھا جب انہوں نے بچے کو مارا جس سے تو مومن اور کافر میں تمیز کر سکے اور تو کافر کو قتل کر کے مومن کو چھوڑ دے۔ اور تو نے لکھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ مجھے عمر دینے والے کی قسم! بعض دفعہ آدمی کی ڈاڑھی نکل آتی ہے اور اسے نہ لینے کا شعور ہوتا ہے اور نہ ہی دینے کا، جب وہ اپنے فائدے کی وہ اچھی باتیں کرنے لگے جو لوگ کرتے ہیں تو اس کی یتیمی ختم ہو گئی۔ اور تو نے لکھا مجھ سے خمس کے متعلق پوچھتا ہے، تو ہم یہ کہتے ہیں کہ خمس ہمارے لیے ہے لیکن ہماری قوم نے نہ مانا تو ہم نے اس پر صبر کیا ہے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الجِهَادِ وَقَسْمِ الغَنَائِمِ/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الجهاد، باب النساء الغازيات يرضخ لهن ولا يسهم.... الخ (1812).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں