السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. (بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ وَالْغَزَوَاتِ)
(سفر اور غزوات میں نمازِ قصر)
حدیث نمبر: 12
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِمَجْلِسِنَا , فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى مِنَ الْقَوْمِ , فَسَأَلَهُ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ , فَجَاءَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا , فَقَالَ: إِنَّ هَذَا سَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ , فَأَرَدْتُ أَنْ تَسْمَعُوهُ , أَوْ كَمَا قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَجْتُ مَعَهُ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ , فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً , لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ يَقُولُ لأَهْلِ الْبَلَدِ:" صَلُّوا أَرْبَعًا , فَإِنَّا سَفْرٌ" , وَاعْتَمَرْتُ مَعَهُ ثَلاثَ عُمَرٍ لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ , وَغَزَوْتُ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَجَّاتٍ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَّ عُثْمَانُ سَبْعَ سِنِينَ مِنْ إِمَارَتِهِ لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ صَلاهَا بِمِنًى أَرْبَعًا.
ابونصرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا گزر ہماری مجلس سے ہوا تو قوم کا ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اُن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات، حج، عمرہ میں کتنی رکعات پڑھتے تھے؟ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آئے اور ہم میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے اس نوجوان نے ایک اہم سوال کیا ہے میں چاہتا ہوں اس کا جواب تم بھی سنو یا اس طرح کا کوئی کلمہ کہا۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں دو دو رکعات ہی پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا آپ دو دو ہی رکعات پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے اور میں فتح مکہ کے موقع پر بھی شریک ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ راتیں مکہ میں قیام کیا اس دوران دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے پھر اہل مکہ کو کہتے کہ تم چار رکعات مکمل پڑھ لو ہم مسافر ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ و حج سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کیا غزوات میں بھی شریک ہوا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی دو رکعتیں ہی پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے، میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی متعدد حج کیے۔ آپ بھی دو ہی رکعات پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس آتے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں سات سال حج کیا وہ بھی دو ہی رکعتیں پڑھتے پھر منی میں چار رکعتیں پڑھی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 33/104، رقم: 19871 وقال الارنوؤط: اسناده ضعیف، سنن ابی داؤد، الصلاة، باب متى يتم المسافر، رقم: 1229، مختصرا وقال الالباني: ضعيف.»