السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. (بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ الْمَسْنُونَةِ)
(نمازِ کسوف کا مسنون طریقہ)
حدیث نمبر: 47
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ , فَقَامَ , فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ , ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ , ثُمَّ انْصَرَفَ , وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ , فَخَطَبَ النَّاسَ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا" , وَقَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , وَاللَّهِ , مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ , يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ , لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا , وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جماعت کرائی ایک لمبا قیام فرمایا پھر ایک لمبا رکوع کیا پھر قیام میں کھڑے ہو کر لمبا قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کچھ ہلکا تھا پھر رکوع میں گئے یہ رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا پھر اسی طرح دوسری رکعت میں بھی کیا پھر واپس پلٹے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا، تو حمد وثناء کے بعد فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں جو کسی کی موت یا زندگی پر گرہن زدہ نہیں ہوتے، جب تم گرہن دیکھو تو دعائیں کرو، تکبیرات کہو، اور صدقہ کا اہتمام کرو۔“ اور فرمایا: ”اے امت محمد! اللہ کی قسم اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں کہ اس کا غلام زنا کرے یا لونڈی زنا کرے اے امت محمد! اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کم ہنسو اور زیادہ رؤو۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «صحيح بخارى، الكسوف، باب الصدقة في الكسوف، رقم: 1044، صحيح مسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف، رقم: 901.»
حدیث نمبر: 48
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ , قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ انْصَرَفَ , وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ هَذَا شَيْئًا , ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ! قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ , فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا , وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا , وَرَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ , وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" , قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" , قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟! قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ , وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ , لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ!".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے سورۃ البقرۃ کی قرآت جتنا لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا، رکوع سے اٹھ کر پھر لمبا قیام کیا، لیکن یہ قیام پہلے قیام سے قدرے کم تھا پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو گرہن ختم ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں جن کے گرہن کا تعلق کسی کی موت یا حیات سے نہ ہے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو قیام کے دوران دیکھا کہ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے ہٹے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی تو میں نے اس سے ایک خوشہ لینے کی کوشش کی اگر میں لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے اور میں نے آگ دیکھی یا مجھے دکھائی گئی اس جیسا خوف ناک منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا میں نے جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔“ صحابہ نے عرض کیا عورتیں زیادہ کیوں تھیں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے کفر کی وجہ سے۔“ صحابہ نے عرض کیا: کیا اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں اگر تو ساری زندگی ان سے حسن سلوک کرے پھر تھوڑی سی ناگوار چیز دیکھ لیں تو کہیں گی میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہ دیکھی۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاری، الکسوف، باب صلاة الكسوف جماعة، رقم: 1052، 1053، صحيح مسلم، الكسوف، باب ما عرض على النبي في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار، رقم: 907.»