السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. (بَابُ كَيْفِيَّةِ الدُّخُولِ فِي الْجَمَاعَةِ)
(جماعت میں شامل ہونے کا طریقہ)
حدیث نمبر: 65
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ صَلاتِهِ سَأَلَ , فَإِذَا أُخْبِرَ كَمْ سُبِقَ صَلَّى الَّذِي سُبِقَ , ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ , فَأَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ , فَدَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ وَلَمْ يَسْأَلْ , فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا بَقِيَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً فَاتَّبِعُوهَا". قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو: هُوَ مُعَاذٌ. قَالَ الْمُزَنِيُّ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ أَنْ يَسُنَّ هَذِهِ السُّنَّةَ , فَوَافَقَ ذَلِكَ فِعْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَذَلِكَ أَنَّ بِالنَّاسِ حَاجَةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ مَا سَنَّ , وَلَيْسَ بِهِمْ حَاجَةٌ إِلَى غَيْرِهِ , فَالسُّنَّةُ سُنَّتُهُ , لا تَجِبُ وَلا تَكُونُ مِنْ غَيْرِهِ.
سیدنا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں) جب کوئی آدمی آتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہوتے کچھ رکعت گزر چکی ہوتیں آدمی دوسرے نمازی سے پوچھ لیتا (کہ کونسی رکعت چل رہی ہے) جب اسے بتایا جاتا تو جلدی سے سابقہ رکعات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے تو جماعت کے ساتھ شامل ہو گئے یہ نہ پوچھا کتنی پڑھی جا چکی ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر بقیہ نماز پوری کر لی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صحابہ! ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے ایک طریقہ اختیار کیا تم بھی ایسے ہی کیا کرو۔“ (یعنی جس حال میں امام کو پاؤ اس کے ساتھ مل جاؤ بقیہ نماز بعد میں پوری کرو بجائے اس کے ہر ایک اپنی گذشتہ رکعات پوری کر کے شامل ہو کہ کوئی قیام میں کوئی رکوع میں کوئی سجدہ میں پڑھا ہو ایک نظم و ضبط ہونا چاہیے۔) راوی سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار کے علاوہ راویوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا نام لیا ہے۔ (یعنی وہ صحابی ابن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے۔) [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «السنن المأثورة عن الشافعی للمزنی، رقم: 64؛ نصب الرایة للزیلعی 2/273.»