السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
300. (بَابُ الْأُضْحِيَّةِ عَنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
(ازواجِ مطہرات کی طرف سے قربانی)
حدیث نمبر: 455
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ"، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً. قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم پچیس ذی قعدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے مکہ کے لیے) روانہ ہوئے ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر کے احرام کھول دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں یوم نحر کو ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ یحییٰ رحمہ اللہ راوی حدیث کہتے ہیں میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد رحمہ اللہ کو بتائی تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم بالکل درست حدیث آپ تک پہنچی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب ذبح الرجل البقر عن نسائہ من غیر امرھن، رقم: 1709، صحیح مسلم، الحج، باب بیان وجوہ الاحرام، رقم: 1211.»
حدیث نمبر: 456
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً"، فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ. قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: جَاءَتْ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ماہ ذی قعدہ ختم ہونے کو پانچ دن باقی تھے ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے تو جب ہم مقام سرف کے قرب و جوار میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جس کے پاس جانور نہیں وہ عمرہ کرلے (یعنی حج تمتع کرے)“ ہم جب منی میں تھے تو مجھے گائے کا گوشت دیا گیا میں نے پوچھا: یہ کہاں سے آیا؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کی جانب سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ رحمہ اللہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد رحمہ اللہ کو بتائی تو کہنے لگے بخدا بالکل درست حدیث آپ تک پہنچی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ، برقم: 455.»