السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
309. (بَابُ مَوْتِ الْمُحْرِمِ وَتَجْهِيزِهِ وَتَكْفِينِهِ)
(محرم کی وفات اور تجہیز و تکفین)
حدیث نمبر: 465
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلا خَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ أَوْ يُلَبِّي".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی اونٹ سے گرا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے احرام میں ہی کفن دو لیکن سر نہ ڈھانپنا یہ بروز قیامت تلبیہ پڑھتا اٹھایا جائے گا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الجنائز، باب کیف یکفن للمحرم، رقم: 1268، صحیح مسلم، الحج، باب ما یفعل بالمحرم اذا مات رقم: 1206.»