السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
334. (بَابُ أَحْكَامِ اللُّقَطَةِ)
(لقطہ (گری پڑی چیز) کے احکام)
حدیث نمبر: 493
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ" قَالَ: فَضَالَّةُ الإِبِلِ؟ قَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا".
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن پہچان لے پھر سال بھر اس کی شناخت کراؤ اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کرو اگر نہیں تو فائدہ اٹھا لو“ آدمی نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے“ آدمی نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہے پانی تک جا سکتا ہے، درخت کھا سکتا ہے حتی کہ اس کو مالک مل جائے گا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 493]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، اللقطة، باب اذا لم یوجد صاحب اللقطة بعد سنة فهی لمن وجدها، رقم: 2429، صحیح مسلم، اللقطة، رقم: 1722.»