🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

345. (بَابُ حَدِّ الثُّلُثِ فِي الْوَصِيَّةِ)
(وصیت میں ایک تہائی مال کی حد)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِيَ مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتَرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي؟ قَالَ:" إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ فيَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ". يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
عامر بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے اُن کے والد نے بتایا کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر بیمار پڑ گئے اور موت کے قریب پہنچ گئے میری عیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو ثلث صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا نصف؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں تو میں نے کہا: ایک ثلث؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثلث بہت ہے، اگر تم ورثاء کو اغنیاء چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو تنگ دست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ دراز کریں تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تم کو ثواب ملے گا حتی کہ جو لقمہ بیوی کے منہ میں رکھو اس پر بھی اجر ہے میں نے عرض کی: کہ (مکہ میں فوت ہو کر) کیا اللہ کے رسول میں اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے بعد تم زندہ رہے تو جو بھی عمل رضا الہی کے لیے کرو گے ان کے ذریعہ آپ کا درجہ و مرتبہ بلند ہوگا اور امید ہے تم میرے بعد زندہ رہو گے تم سے ایک قوم کو نفع دوسری کو نقصان ہو گا اے اللہ میرے صحابہ کی ہجرت برقرار رکھ اور ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا دینا قابل افسوس سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے اس لیے افسوس کا اظہار کیا کہ (ہجرت کے بعد اتفاق سے) ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہوئی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الفرائض، باب ميراث البنات، رقم: 6733، صحيح مسلم الوصية، باب الوصية بالثلث، رقم: 1628»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلا يَرِثُنِي إِلا ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ فَقَالَ:" لا"، فَقُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ:" لا"، ثُمَّ قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي امْرَأَتِكَ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلا صَالِحًا إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ". لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے مجھے سخت تکالیف تھی میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میری بیماری آپ دیکھ رہے ہیں، میں صاحب مال ہوں، میری وارث میری ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے عرض کیا: نصف؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پھر میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہائی ٹھیک ہے البتہ یہ بھی بہت زیادہ۔ اگر تو ورثا کو اغنیاء چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو کنگال چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں سے مانگتے پھریں بے شک تو جو بھی رضا الہی کے لیے خرچ کرے گا اس کا اجر پائے گا حتی کہ اس لقمہ پر بھی جو تو بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہرگز پیچھے نہیں رہے گا تو جو بھی صالح عمل کرے گا اس پر تیرا رتبہ، درجہ بلند ہو گا امید ہے تو زندہ رہے حتی کہ تجھ سے کچھ لوگ فائدہ حاصل کریں اور بعض کو نقصان ہو۔ (پھر دعا فرمائی) اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت برقرار رکھ ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس کیا جو مکہ میں فوت ہوئے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الجنائز، باب رثى النبي سعد بن خولة، رقم: 1295»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں