صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ إِذَا فَاتَهُ الْعِيدُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ:
باب: اگر کسی کو جماعت سے عید کی نماز نہ ملے تو پھر دو رکعت پڑھ لے۔
حدیث نمبر: Q987
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ مَوْلَاهُمْ ابْنَ أَبِي عُتْبَةَ بِالزَّاوِيَةِ فَجَمَعَ أَهْلَهُ وَبَنِيهِ وَصَلَّى كَصَلَاةِ أَهْلِ الْمِصْرِ وَتَكْبِيرِهِمْ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ: أَهْلُ السَّوَادِ يَجْتَمِعُونَ فِي الْعِيدِ يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ، وَقَالَ عَطَاءٌ: إِذَا فَاتَهُ الْعِيدُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
اور عورتیں بھی ایسا ہی کریں اور وہ لوگ بھی جو گھروں اور دیہاتوں وغیرہ میں ہوں اور جماعت میں نہ آ سکیں (وہ بھی ایسا ہی کریں) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اسلام والو! یہ ہماری عید ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے غلام ابن ابی عتبہ زاویہ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ انہیں آپ نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں اور بچوں کو جمع کر کے شہر والوں کی طرح نماز عید پڑھیں اور تکبیر کہیں۔ عکرمہ نے شہر کے قرب و جوار میں آباد لوگوں کے لیے فرمایا کہ جس طرح امام کرتا ہے یہ لوگ بھی عید کے دن جمع ہو کر دو رکعت نماز پڑھیں۔ عطاء نے کہا کہ اگر کسی کی عید کی نماز (جماعت) چھوٹ جائے تو دو رکعت (تنہا) پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: Q987]
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنَى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں (منٰی کے دنوں میں) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بعاث کی لڑائی کی نظمیں گا رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر جانے بھی دو یہ عید کے دن ہیں (اور وہ بھی منٰی میں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 987]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ایامِ منیٰ میں اس وقت دو لڑکیاں دف بجا کر گیت گا رہی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لڑکیوں کو ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا کر فرمایا: ”اے ابوبکر! انہیں اپنی حالت میں رہنے دو، اس لیے کہ یہ عید کے دن ہیں۔“ اور یہ منیٰ کے دنوں کی بات ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 988
وَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنَ الْأَمْنِ".
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے (ایک دفعہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھپا رکھا تھا اور میں حبشہ کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں تیروں سے کھیل رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانے دو اور ان سے فرمایا اے بنوارفدہ! تم بےفکر ہو کر کھیل دکھاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 988]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے مجھے چھپا رکھا تھا اور میں اہل حبشہ کی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اپنی حالت پر رہنے دو، اے بنو ارفدہ! تم اطمینان سے اپنے کرتب جاری رکھو۔“ حدیث میں لفظ «أَمْنًا» (امن) کے معنی بلا خوف و خطر کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة