🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

123. باب فِي الرَّجُلِ يُكْرِي دَابَّتَهُ عَلَى النِّصْفِ أَوِ السَّهْمِ
باب: آدمی اپنا جانور مال غنیمت کے آدھے یا پورے حصے کے بدلے کرایہ پر دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَقْبَلْتُ وَقَدْ خَرَجَ أَوَّلُ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقْتُ فِي الْمَدِينَةِ أُنَادِي أَلَا مَنْ يَحْمِلُ رَجُلًا لَهُ سَهْمُهُ؟ فَنَادَى شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ لَنَا: سَهْمُهُ عَلَى أَنْ نَحْمِلَهُ عَقَبَةً وَطَعَامُهُ مَعَنَا، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَسِرْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ خَيْرِ صَاحِبٍ حَتَّى أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْنَا، فَأَصَابَنِي قَلَائِصُ فَسُقْتُهُنَّ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَخَرَجَ فَقَعَدَ عَلَى حَقِيبَةٍ مِنْ حَقَائِبِ إِبِلِهِ، ثُمَّ قَالَ: سُقْهُنَّ مُدْبِرَاتٍ ثُمَّ قَالَ: سُقْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ، فَقَالَ: مَا أَرَى قَلَائِصَكَ إِلَّا كِرَامًا قَالَ: إِنَّمَا هِيَ غَنِيمَتُكَ الَّتِي شَرَطْتُ لَكَ قَالَ: خُذْ قَلَائِصَكَ يَا ابْنَ أَخِي فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا.
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منادی کرائی، میں اپنے اہل کے پاس گیا اور وہاں سے ہو کر آیا تو صحابہ کرام نکل چکے تھے، تو میں شہر میں پکار لگانے لگا کہ کوئی ایسا ہے جو ایک آدمی کو سوار کر لے، اور جو حصہ مال غنیمت سے ملے اسے لے لے، ایک بوڑھے انصاری بولے: اچھا ہم اس کا حصہ لے لیں گے، اور اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیں گے، اور ساتھ کھانا کھلائیں گے، میں نے کہا: ہاں قبول ہے، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے چلو، میں بہت ہی اچھے ساتھی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنیمت کا مال دیا، میرے حصہ میں چند تیز رو اونٹنیاں آئیں، میں ان کو ہنکا کر اپنے ساتھی کے پاس لایا، وہ نکلے اور اپنے اونٹ کے پچھلے حصہ (حقیبہ) پر بیٹھے، پھر کہا: ان کی پیٹھ میری طرف کر کے ہانکو، پھر بولے: ان کا منہ میری طرف کر کے ہانکو، اس کے بعد کہا: تیری اونٹنیاں میرے نزدیک عمدہ ہیں، میں نے کہا: یہ تو آپ کا وہی مال ہے جس کی میں نے شرط رکھی تھی، انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تو اپنی اونٹنیاں لے لے، میرا ارادہ تیرا حصہ لینے کا نہ تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2676]
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ جہاد فرمایا تو میں اپنے گھر والوں کے پاس گیا، واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا پہلا قافلہ روانہ ہو چکا تھا۔ میں مدینے میں گھومنے لگا اور اعلان کرتا تھا: کوئی ہے جو ایک آدمی کو اپنے ساتھ سوار کرا لے اور اس کی غنیمت کا حصہ پائے؟ تو ایک انصاری بوڑھے نے کہا: اس کی غنیمت کا حصہ ہمارا ہو گا اور ہم اسے باری سے اپنے ساتھ سوار کرائیں گے اور وہ کھانا بھی ہمارے ساتھ کھائے گا؟ میں نے کہا: بہت بہتر۔ اس نے کہا: تو چلیے اللہ تعالیٰ کی برکت کے ساتھ۔ چنانچہ میں ایک بہترین ساتھی کے ساتھ روانہ ہوا۔ حتیٰ کہ اللہ نے ہمیں مالِ غنیمت سے بہرہ ور فرمایا اور مجھے کچھ اونٹنیاں ملیں، میں انہیں اپنے ساتھی کے پاس ہانک لایا، چنانچہ وہ اپنے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصے پر بیٹھا اور مجھے کہا: انہیں چلاؤ کہ میں انہیں پیچھے کی طرف سے دیکھوں۔ پھر کہا: انہیں چلاؤ کہ میں انہیں آگے کی طرف سے دیکھوں۔ وہ بولا: تمہاری اونٹنیاں بہت عمدہ ہیں۔ میں نے عرض کیا: یہ تو آپ کی غنیمت ہیں جس کی میں آپ سے شرط کر چکا ہوں۔ اس نے کہا: بھتیجے! اپنی اونٹنیاں لے جاؤ، ہم نے تیرے دوسرے حصے کا ارادہ کیا ہے۔ (اجر و ثواب میں حصے داری کا۔) [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11747) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عمرو بن عبد اللہ سے سیبانی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عمرو بن عبد الله الحضرمي وثقه يعقوب الفارسي والعجلي المعتدل وقال ابن حبان ’’متقنًا‘‘ وصححه أبو عوانة والحاكم والذهبي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں