سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب فِي الشَّرِكَةِ عَلَى غَيْرِ رَأْسِ مَالٍ
باب: بغیر سرمایہ لگائے شرکت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3388
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" اشْتَرَكْتُ أَنَا، وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ فِيمَا نُصِيبُ يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ: فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ، وَلَمْ أَجِئْ أَنَا، وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3388]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدر کی جنگ والے دن میں، سیدنا عمار اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے آپس میں طے کیا کہ ”جو بھی ہمیں ملے گا ہم تینوں اس میں شریک ہوں گے۔“ چنانچہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تو دو قیدی لے آئے مگر میں اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کچھ نہ لا سکے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأیمان والنذور 47 (3969)، البیوع 103 (4701)، سنن ابن ماجہ/التجارات 63 (2288)، (تحفة الأشراف: 9616) (ضعیف)» (ابوعبیدہ کا اپنے والد عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3969،4701) ابن ماجه (2288)
أبو عبيدة لم يدرك أباه كما تقدم (995) وأبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
إسناده ضعيف
نسائي (3969،4701) ابن ماجه (2288)
أبو عبيدة لم يدرك أباه كما تقدم (995) وأبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122