سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب فِي التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ
باب: بٹائی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3394
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا حَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَ عُبَيْدُ اللَّهِ، وَ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا، فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَكَذَا. قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ: عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو النَّجَاشِيِّ: عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ.
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3394]
جناب سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ زمین کرائے (بٹائی) پر دیا کرتے تھے حتیٰ کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا کہ ”تم زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان بیان کرتے ہو؟“ تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں نے اپنے دو چچوں سے سنا جو بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ گھر والوں سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے (بٹائی) پر دینے سے منع کیا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے متعلق یہی معلوم ہے کہ اس دور میں زمین بٹائی پر دی جاتی تھی۔“ مگر پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں (بعد میں) کوئی نئی بات نہ فرما دی ہو جس کا انہیں علم نہ ہو سکا ہو۔ چنانچہ اس بنا پر انہوں نے زمین بٹائی پر دینا ترک کر دی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک رحمہ اللہ نے بواسطہ نافع پھر رافع اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ اور اوزاعی نے بواسطہ حفص بن عنان حنفی، نافع سے، انہوں نے رافع سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ اور ایسے ہی زید بن ابی انیسہ نے بواسطہ حکم، نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ رافع کے پاس ہوئے اور پوچھا کہ ”کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ اور ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابوالنجاشی سے، انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ کہا کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ نیز اوزاعی نے ابوالنجاشی سے روایت کیا، انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابوالنجاشی کا نام عطاء بن صہیب ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2345)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1547)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3921)، (تحفة الأشراف: 6879، 5571)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465، 4/140) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2345) صحيح مسلم (1547)
حدیث نمبر: 3395
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ:" كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، وَأَنْفَعُ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ، وَلَا بِرُبُعٍ، وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (بٹائی پر) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو (ایک بار) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا (اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3395]
جناب سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ تو ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس معاملے سے جو ہمارے لیے نفع آور تھا منع فرما دیا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی ہمارے لیے نفع آور اور سود مند ہے۔“ ہم نے پوچھا: ”اور وہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو تو چاہیے کہ خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کے لیے دے دے، لیکن تہائی یا چوتھائی یا متعین غلے پر بٹائی پر نہ دے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ البیوع 18 (1548)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3904، 3905، 3926)، (تحفة الأشراف: 3559،15570)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/464، 465، 466) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1548)
حدیث نمبر: 3396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، أَنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَدِيثِهِ.
ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3396]
ایوب نے روایت کیا ہے کہ یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھ بھیجا کہ: ”میں نے سلیمان بن یسار سے سنا ہے“ اور عبیداللہ کی اسناد اور اس کی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3559، 15570) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1548)
حدیث نمبر: 3397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَنَا أَبُو رَافِعٍ، مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَرْفَقُ بِنَا نَهَانَا أَنْ يَزْرَعَ أَحَدُنَا إِلَّا أَرْضًا يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا، أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے پاس ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں (بلامعاوضہ و شرط) دیدے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3397]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے ہمارے پاس آئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک کام سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے بڑے نفع والا تھا، مگر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہمارے لیے بہت زیادہ نفع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (کسی کی) زمین کاشت کرنے سے منع فرما دیا ہے سوائے اس کے کہ انسان خود اس کا مالک ہو یا کسی نے اس کو عطیہ دی ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12033) (حسن)» (اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے ورنہ اس کے راوی ابن رافع مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله في صحيح مسلم (1550)
أصله في صحيح مسلم (1550)
حدیث نمبر: 3398
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَقَالَ: مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ،عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ شُعْبَةُ: أُسَيْدٌ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَديِجٍ.
اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو (مفت) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3398]
جناب اسید بن ظہیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ایک کام سے منع فرماتے ہیں جو تمہارے لیے نفع آور تھا، مگر اللہ اور رسول کی اطاعت تمہارے لیے اس سے بڑھ کر نفع آور ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بٹائی پر کاشت کاری سے منع فرماتے ہیں۔“ اور فرمایا ہے: ”جو کوئی اپنی زمین سے مستغنی ہو تو چاہیے کہ اپنے بھائی کو عطیہ دے دے یا ویسے ہی چھوڑ دے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے اسے منصور سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ شعبہ نے کہا کہ اسید، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المزارعة 2 (3894)، سنن ابن ماجہ/الرھون 10 (2460)، (تحفة الأشراف: 3549)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/464، 465، 466) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حديث مفضل بن مھلھل رواه النسائي (3894 وسنده صحيح)
حديث مفضل بن مھلھل رواه النسائي (3894 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 3399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ: بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا، وَغُلَامًا لَهُ، إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى بَنِي حَارِثَةَ، فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ، فَقَالَ:" مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ، قَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ، قَالَ: أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ؟، قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ. قَالَ: فَخُذُوا زَرْعَكُمْ، وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ"، قَالَ رَافِعٌ: فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا، وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ".
ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ (براہ راست) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: ”(ماشاء اللہ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے“ لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو“ رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ (اخراجات و محنتانہ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: (اب دو صورتیں ہیں) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو (اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو (یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3399]
ابوجعفر خطمی کا بیان ہے کہ میرے چچا نے مجھے اور اپنے غلام کو جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے ہاں بھیجا اور ہم نے ان سے کہا: ”ہمیں آپ کی طرف سے مزارعت کے بارے میں ایک بات پہنچی ہے (وہ کیسے ہے؟)“ تو انہوں نے کہا: ”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے حتیٰ کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث پہنچی تو وہ خود ان کے پاس گئے، تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے ہاں تشریف لائے تو ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی۔ تو فرمایا: ”ظہیر کی کھیتی کیا خوب عمدہ ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”یہ ظہیر کی نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا زمین ظہیر کی نہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، زمین تو اس کی ہے مگر فلاں نے کاشت کر رکھی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی کھیتی لے لو اور اس کا خرچ اسے واپس کر دو۔““ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”چنانچہ ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور اس کا خرچ اسے ادا کر دیا۔“ سعید (سعید بن مسیب رحمہ اللہ) نے کہا: ”اپنے بھائی کو عطیہ دے دو یا دراہم کے بدلے کرائے پر دے دو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المزارعة 2 (3920)، (تحفة الأشراف: 3558) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (3920 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (3920 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 3400
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۱؎ اور فرمایا: ”زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں (۱) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، (۲) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، (۳) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3400]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“ اور «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی تین طرح سے ہی کاشت کاری کر سکتا ہے، زمین آدمی کی اپنی ملکیت ہو تو اسے کاشت کرے یا کسی نے اسے عطیہ دی ہو تو کاشت کرے یا سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر لی ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ المزارعة 2 (3921)، التجارات 54 (2667)، سنن ابن ماجہ/الرھون 7 (2449)، (تحفة الأشراف: 3557)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ کراء الأرض 1 (1) مسند احمد (3/464، 465، 466) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ (بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3921 وسنده حسن) وابن ماجه (2449 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (3921 وسنده حسن) وابن ماجه (2449 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3401
قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:" إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ، فَقَالَ: أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ".
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے (رافع نے) کہا: اسے چھوڑ دو (یعنی یہ معاملہ ختم کر لو) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3401]
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ ”میں یتیم تھا اور (اپنے دادا) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں تھا، میں نے ان کے ساتھ حج بھی کیا، میرا بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آیا اور کہا کہ ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم کے بدلے ٹھیکے پر دے دی ہے، تو انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے (ٹھیکے) پر دینے سے منع فرمایا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المزارعة 3 (3958)، (تحفة الأشراف: 3569) (شاذ)» (اس کے راوی عثمان (جن کا صحیح نام عیسیٰ ہے) لین الحدیث ہیں، اس میں شذوذ یہ ہے کہ اس میں مطلق زمین کرایہ پر دینے کی بات ہے، حالانکہ ابو رافع سے سونا چاندی اور درہم و دینار کے بدلے کرایہ پر دینے کی اجازت مروی ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3958)
وقال : عيسي بن سهل بن رافع،ابن سهل بن رافع : لم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ في التقريب (5296) :’’ مقبول ‘‘ أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
قَالَ أَبُو دَاوُد
إسناده ضعيف
نسائي (3958)
وقال : عيسي بن سهل بن رافع،ابن سهل بن رافع : لم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ في التقريب (5296) :’’ مقبول ‘‘ أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
قَالَ أَبُو دَاوُد
حدیث نمبر: 3402
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا،" فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ، لِمَنِ الزَّرْعُ، وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟، فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي، وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ، وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: أَرْبَيْتُمَا، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ".
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟“ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو (جو زمین کا مالک ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے ربا کیا (یعنی یہ عقد ناجائز ہے) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3402]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے زمین کاشت کر رکھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے جبکہ وہ اسے پانی دے رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”یہ کس نے کاشت کی ہے اور زمین کس کی ہے؟“ عرض کیا کہ کاشت میری ہے، بیج میرا ہے اور محنت بھی میری ہے، مجھے آدھا حصہ ملے گا اور آدھا بنو فلاں کو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے سود کا معاملہ کیا، زمین اس کے مالکوں کو واپس کر دو اور اپنا خرچ لے لو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3568) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی بکیر بن عامر ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بكير ضعيف
والحديث صححه الحاكم (41/2) فقال الذھبي : ’’ بكير ضعيف‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
إسناده ضعيف
بكير ضعيف
والحديث صححه الحاكم (41/2) فقال الذھبي : ’’ بكير ضعيف‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122