🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْكُسُوفِ:
باب: گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرآت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1065
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ نَمِرٍ، سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" جَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ كَبَّرَ فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُعَاوِدُ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن سلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سنا، انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے (اپنی خالہ) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں قرآت بلند آواز سے کی، قرآت سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سمع الله لمن حمده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ربنا ولك الحمد‏» کہا پھر دوبارہ قرآت شروع کی۔ غرض گرہن کی دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكُسُوف/حدیث: 1065]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خسوف میں بآواز بلند قراءت فرمائی۔ جب قراءت سے فارغ ہوئے تو «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور رکوع کیا۔ پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہا۔ پھر آپ نے دوبارہ قراءت کا آغاز فرمایا۔ آپ نے نماز کسوف میں دو رکعات میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكُسُوف/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1066
وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَغَيْرُهُ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، سَمِعَ ابْنَ شِهَاب مِثْلَهُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ: مَا صَنَعَ أَخُوكَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: أَجَلْ إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ، تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيِ الْجَهْر.
اور امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے اعلان کرا دیا کہ نماز ہونے والی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں۔ ولید بن مسلم نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن نمر نے خبر دی اور انہوں نے ابن شہاب سے سنا، اسی حدیث کی طرح زہری (ابن شہاب) نے بیان کیا کہ اس پر میں نے (عروہ سے) پوچھا کہ پھر تمہارے بھائی عبداللہ بن زبیر نے جب مدینہ میں «کسوف» کی نماز پڑھائی تو کیوں ایسا کیا کہ جس طرح صبح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ نماز «کسوف» بھی انہوں نے پڑھائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انہوں نے سنت کے خلاف کیا۔ عبدالرحمٰن بن نمر کے ساتھ اس حدیث کو سلیمان بن کثیر اور سفیان بن حسین نے بھی زہری سے روایت کیا، اس میں بھی جہری قرآت کرنے کا بیان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكُسُوف/حدیث: 1066]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے ایک منادی کرنے والے کو تعینات کیا جو «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ”نماز جمع ہونے والی ہے“ کا اعلان کرتا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور دو رکعات میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ ولید کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن نمر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے بھی امام زہری رحمہ اللہ سے اسی طرح سنا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے تو ایسا نہیں کیا تھا۔ انہوں نے جب مدینہ طیبہ میں گرہن کے موقع پر نماز پڑھی تھی تو صبح کی نماز کی طرح صرف دو رکعت ہی ادا کی تھی۔ انہوں نے کہا: ہاں، لیکن ان سے سنت میں خطا سرزد ہو گئی۔ سلیمان بن کثیر اور سفیان بن حسین نے امام زہری رحمہ اللہ سے جہری قراءت کے سلسلے میں ابن نمر کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكُسُوف/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں