🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ سورة النور آية 31 الْآيَةَ، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا سورة النور آية 60الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (سورۃ النور: ۳۱) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو (سورۃ النور: ۶۰) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4111]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ ﴿وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] کی تفسیر میں فرمایا: (یہ عام الحکم تھا۔ پھر بڑی عمر کی بوڑھی عورتوں کے حق میں) اسے منسوخ کر کے انہیں اس حکم سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا﴾ [سورة النور: 60] یعنی بڑی عمر کی بوڑھی عورتیں جنہیں اب نکاح کی خواہش نہ ہو۔ (ان پر پردے کے احکام کی پابندی نہیں ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6266) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4112
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجِبَا مِنْهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً أَلَا تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4112]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھی جبکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے۔ اور یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ ہمیں پردے کے احکام دے دیے گئے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پردہ کرو۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہے، ہمیں دیکھتا نہیں اور پہچانتا بھی نہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا تم بھی اندھی ہو، تم اسے نہیں دیکھتی ہو؟! امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حکم ازواجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔ جبکہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارنے کا کہا گیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تھا: ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو، وہ نابینا آدمی ہے، تم اس کے ہاں اپنے کپڑے اتار سکو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 29 (2778)، (تحفة الأشراف: 18222)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں نبہان مولی ام سلمہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3116)
أخرجه الترمذي (2778 وسنده حسن) نبھان مولٰي أم سلمة: وثقه الذھبي في الكاشف و الترمذي و ابن حبان و الحاكم بتصحيح حديثه فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَيْمُونِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى عَوْرَتِهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4113]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی اپنے غلام کی اپنی باندی سے شادی کر دے تو اب اس باندی کے ستر کی طرف نہ دیکھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8742) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (4114)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَصَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4114]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی اپنی خادمہ کی اپنے غلام یا نوکر سے شادی کر دے تو اب اس خادمہ کی ناف سے لے کر گھٹنے سے اوپر تک کے حصہ کو مت دیکھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سند میں راوی (داود بن سوار) کا صحیح نام سوار بن داود مزنی صیرفی ہے، اس میں وکیع کو وہم ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/187) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3111)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں