🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. باب فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ
باب: جساسہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4325
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:" إِنَّهُ حَبَسَنِي، حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ؟ قُلْتُ: بَلْ أَطَاعُوهُ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی، پھر نکلے تو فرمایا: مجھے ایک بات نے روک لیا، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولی: میں جساسہ ۱؎ ہوں، تم اس محل کی طرف جاؤ، تو میں اس محل میں آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے، میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ میں نے کہا: ہاں (وہ ظاہر ہو چکے ہیں) اس نے پوچھا: لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے، تو اس نے کہا: یہ بہتر ہے ان کے لیے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4325]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ پھر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے تمیم داری رضی اللہ عنہ کی باتوں نے روک لیا تھا۔ وہ بیان کر رہے تھے کہ سمندری جزیروں میں سے ایک جزیرے میں ایک آدمی تھا، اور میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی تھی۔ پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں «الْجَسَّاسَةُ» جساسہ ہوں، اس محل میں چلے جاؤ، میں وہاں گیا تو اس میں ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا اور زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اوپر نیچے اچھل رہا تھا۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں۔ کیا عربوں کا نبی آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا ان لوگوں نے اس کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ اطاعت کی ہے۔ اس نے کہا: یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18039) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جساسہ ایک عورت ہے اور اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ وہ ایک دابہ ہے بظاہر دونوں روایتیں متعارض ہیں اس تعارض کو حسب ذیل طریقے سے دفع کیا جاتا ہے: ۱- ہو سکتا ہے کہ دجال کے پاس دو جساسہ ہوں ایک دابہ ہو اور دوسری عورت ہو، ۲- یا وہ شیطانہ ہو جو کبھی دابہ کی شکل میں ظاہر ہوتی رہی ہو اور کبھی عورت کی شکل میں کیونکہ شیطان جو شکل چاہے اپنا سکتا ہے، ۳- یا اسے مجازاً دابہ کہا گیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول «وما من دابّۃ فی الارض إلا علی اللہ رزقھا»  میں ہے، اگلی روایت کے الفاظ «فرقنا منھا ان تکون شیطانۃ» سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5484)
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (4326)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4326
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا الْمُعَلِّمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: أَنِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَ: لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنِّي مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَهْبَةٍ وَلَا رَغْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي حَدَّثْتُكُمْ، عَنِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي، أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ وَأَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبْ السَّفِينَةِ، فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرَةُ الشَّعْرِ، قَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي هَذَا الدَّيْرَ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وَثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَهُمْ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ وَعَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، قَالَ: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ وَإِنَّهُ يُوشَكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مَرَّتَيْنِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، قَالَتْ: حَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو پکارتے سنا: لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو میں نکلی اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نے نماز ختم فرمائی تو ہنستے ہوئے منبر پر جا بیٹھے، اور فرمایا: ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جہنم سے ڈرانے اور جنت کا شوق دلانے کے لیے نہیں اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتلانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری نے جو نصرانی شخص تھے آ کر مجھ سے بیعت کی ہے، اور اسلام لے آئے ہیں، انہوں نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا ہے جو اس بات کے مطابق ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق بتائی ہے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی پر سوار ہوئے، ان کے ہمراہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی بھی تھے، تو پورے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں ان کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر سورج ڈوبتے وقت وہ ایک جزیرہ کے پاس جا لگے، وہاں سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے، وہاں انہیں ایک لمبی دم اور زیادہ بالوں والا ایک دابہ (جانور) ملا، لوگوں نے اس سے کہا: کم بخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں، تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس گھر میں ہے، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے، جب ہم سے اس نے اس شخص کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، پھر وہاں سے جلدی سے بھاگے اور اس گھر میں جا پہنچے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الجثہ اور انتہائی طاقتور انسان ہے کہ اس جیسا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا، جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ اور ان سے بیسان ۲؎ کے کھجوروں، اور زعر ۳؎ کے چشموں کا حال پوچھا، اور نبی امی کے متعلق دریافت کیا، پھر اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، (پھر آپ نے کہا:) نہیں، بلکہ مشرق کی سمت میں ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دو بار مشرق کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کہتی ہیں: یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4326]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے کو منادی کرتے ہوئے سنا کہ «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ تو میں بھی چلی آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے۔ پھر فرمایا: کیا جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ڈرانے یا خوشخبری سنانے کے لیے جمع نہیں کیا ہے۔ میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری عیسائی تھا، میرے ہاں آیا، بیعت کی اور اسلام قبول کیا اور اس نے مجھے ایک بات بیان کی ہے جو میری بات کی تائید میں ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق کہی ہے۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک جہاز میں سوار ہوا، اس کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی تھے۔ جہاز کو طوفانی موجوں نے آ لیا جو انہیں ایک مہینہ تک پریشان کیے رہیں۔ اور وہ سورج غروب ہونے کے وقت ایک جزیرے کے پاس پہنچے اور ایک چھوٹی کشتی میں سوار ہو کر جزیرے میں جا اترے۔ تو انہیں ایک جانور ملا جس کی دم بھاری اور جسم پر بہت بال تھے۔ انہوں نے کہا: کمبخت! تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں «الْجَسَّاسَةُ» (جساسہ) ہوں۔ اس گرجے میں ایک آدمی ہے اس کے پاس جاؤ، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے۔ جب اس نے ہمارے سامنے آدمی کا نام لیا تو ہم اس سے ڈر گئے کہ کہیں شیطان نہ ہو۔ ہم جلدی سے چلے اور اس گرجے میں داخل ہوئے تو ایک بہت بڑا انسان دیکھا، اس قدر بڑا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا جسے بڑی سختی سے باندھا گیا تھا اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ اور حدیث بیان کی، اس نے ان سے (شام کے) نخلستانِ بیسان، چشمہ زغر اور نبیِ امی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا اور کہا کہ: میں ہی مسیح (دجال) ہوں۔ عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے، نہیں بلکہ مشرق کی طرف ہے۔ دو بار فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی ہے، اور بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفتن 24 (2942)، سنن الترمذی/الفتن 66 (2253)، ق /الفتن 33 (4074) (تحفة الأشراف: 18024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/374، 411، 412، 413، 415، 416، 418) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس میں ہے کہ اس نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عربوں کا حال پوچھا جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔
۲؎: بیسان: شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔
۳؎: زعر: یہ بھی شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2942)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَكَانَ لَا يَصْعَدُ عَلَيْهِ إِلَّا يَوْمَ جُمُعَةٍ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ ذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَابْنُ صُدْرَانَ بَصْرِيٌّ غَرِقَ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِ مِسْوَرٍ لَمْ يَسْلَمْ مِنْهُمْ غَيْرُهُ.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ منبر پر چڑھے، اس سے پہلے آپ صرف جمعہ ہی کو منبر پر چڑھتے تھے، پھر راوی نے اسی قصہ کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4327]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے علاوہ منبر پر نہ آتے تھے، مگر اس دن منبر پر آئے۔ پھر یہ قصہ بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن صدران بصری ہیں جو ابن مسور کے ساتھ سمندر میں ڈوب گئے تھے اور اس کے علاوہ اور کوئی محفوظ نہیں رہا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18024) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں مجالد ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4074)
مجالد : ضعفه الجمهور
و أصل الحديث صحيح بدون ’’ صلي الظهر ‘‘
انظر الحديث السابق (الأصل / سنن أبي داود :3426)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4328
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّهُ بَيْنَمَا أُنَاسٌ يَسِيرُونَ فِي الْبَحْرِ فَنَفِدَ طَعَامُهُمْ، فَرُفِعَتْ لَهُمْ جَزِيرَةٌ، فَخَرَجُوا يُرِيدُونَ الْخُبْزَ فَلَقِيَتْهُمُ الْجَسَّاسَةُ، قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَ: امْرَأَةٌ تَجُرُّ شَعْرَ جِلْدِهَا وَرَأْسِهَا قَالَتْ: فِي هَذَا الْقَصْرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ، وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ، قَالَ: هُوَ الْمَسِيحُ، فَقَالَ لِي ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ: إِنَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ شَيْئًا مَا حَفِظْتُهُ، قَالَ: شَهِدَ جَابِرٌ أَنَّهُ هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ قَالَ: وَإِنْ مَاتَ قُلْتُ: فَإِنَّهُ أَسْلَمَ، قَالَ: وَإِنْ أَسْلَمَ، قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: وَإِنْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر فرمایا: کچھ لوگ سمندر میں سفر کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کا کھانا ختم ہو گیا تو ان کو ایک جزیرہ نظر آیا اور وہ روٹی کی تلاش میں نکلے، ان کی ملاقات جساسہ سے ہوئی ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک عورت تھی جو اپنی کھال اور سر کے بال کھینچ رہی تھی، اس جساسہ نے کہا: اس محل میں (چلو) پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے اور دجال نے بیسان کے کھجور کے درختوں، اور زغر کے چشموں کے متعلق دریافت کیا، اس میں ہے یہی مسیح ہے۔ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: اس پر ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو مجھے یاد نہیں ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جابر نے پورے وثوق سے کہا: یہی ابن صیاد ۱؎ ہے، تو میں نے کہا: وہ تو مر چکا ہے، اس پر انہوں نے کہا: مر جانے دو، میں نے کہا: وہ تو مسلمان ہو گیا تھا، کہا: ہو جانے دو، میں نے کہا: وہ مدینہ میں آیا تھا، کہا: آنے دو، اس سے کیا ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4328]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: کچھ لوگ سمندر میں جا رہے تھے کہ ان کا کھانا ختم ہو گیا، تو انہیں ایک جزیرہ دکھائی دیا۔ وہ روٹی کی تلاش میں اسی میں چلے گئے تو «الْجَسَّاسَةُ» (جساسہ) سے ان کی ملاقات ہو گئی۔ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: «الْجَسَّاسَةُ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک عورت ہے جو اپنے جسم اور سر کے بال کھینچ رہی تھی۔ اس نے کہا: اس محل میں، اور حدیث بیان کی۔ اور (محل والے آدمی نے) ان سے بیسان کے نخلستان اور زغر کے چشمے کے متعلق معلوم کیا۔ کہا: وہی مسیح (دجال) ہے۔ ابن ابوسلمہ نے مجھ سے کہا کہ اس حدیث میں ایک بات ہے جو مجھے یاد نہیں۔ کہتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ: یہی ابن صائد ہے۔ میں نے کہا: وہ تو مر چکا ہے۔ انہوں نے کہا: اگرچہ مر گیا ہے۔ میں نے کہا: اس نے اسلام قبول کیا تھا۔ انہوں نے کہا: اگرچہ اسلام قبول کیا تھا۔ میں نے کہا: وہ تو مدینے میں بھی داخل ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: اگرچہ مدینے میں بھی داخل ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3161) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے بعض حضرات یہ سمجھتے تھے کہ ابن صیاد ہی وہ مسیح دجال ہے جس کے قیامت کے قریب ظہور کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت کی بنا پر اس بات میں کوئی قطعیت نہیں،وہ تو بس ایک چھوٹا دجال ہے، نیز امام بیہقی کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ دجال اکبر ابن صیاد نہیں بلکہ کوئی اور ہے، ابن صیاد تو ان جھوٹے دجالوں میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی، اور جن میں سے اکثر کا ظہور ہو چکا ہے، جن لوگوں نے ابن صیاد کو وثوق کے ساتھ مسیح دجال قرار دیا ہے انہوں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ والا واقعہ نہیں سنا ہے، کیونکہ دونوں باتیں ایک پر فٹ نہیں ہو سکتیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد نبوت میں ایک قریب البلوغ لڑکا ہو، آپ سے مل چکا ہو اور آپ سے سوال و جواب کر چکا ہو، وہ آپ کے آخری عمر میں بوڑھا ہو گیا، اور سمندر کے ایک جزیرہ میں بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھ رہا ہو کہ آپ کا ظہور ہوا کہ نہیں؟۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن أبي سلمة ھو عمر والقائل لھذه المقولة ھو الوليد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں