سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب فِي قَطْعِ النَّبَّاشِ
باب: کفن چور کے ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4409
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ يَعْنِي الْقَبْرَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَوْ مَا خَارَ لِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ، أَوْ قَالَ: تَصْبِرُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ يُقْطَعُ النَّبَّاشُ: لِأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيِّتِ بَيْتَهُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کو لازم پکڑنا“ یا فرمایا: ”اس دن صبر کرنا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4409]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: ”میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مطیع و فرمانبردار ہوں!“ فرمایا: ”تیرا کیا حال ہوگا جب لوگوں کو موت آئے گی اور ان حالات میں گھر ایک غلام کے بدلے میں ملے گا؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی: ”قبر۔“ میں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں،“ یا کہا: ”جو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے پسند فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کرنا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن ابوسلیمان نے کہا: ”کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے، کیونکہ وہ میت کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4261)، (تحفة الأشراف: 11947) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3958 وسنده حسن) المشعث بن طريف حسن الحديث وثقه ابن حبان وقال صالح بن جزرة: ’’ومشعث جليل، لا يعرف في قضاة خراسان أجل منه‘‘ وانظر الحديث السابق (4261)
أخرجه ابن ماجه (3958 وسنده حسن) المشعث بن طريف حسن الحديث وثقه ابن حبان وقال صالح بن جزرة: ’’ومشعث جليل، لا يعرف في قضاة خراسان أجل منه‘‘ وانظر الحديث السابق (4261)