سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لُزُومِ السُّنَّةِ
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4619
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ،" كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ سورة الحجر آية 12، قَالَ: الشِّرْكُ".
حسن بصری آیت کریمہ: «كذلك نسلكه في قلوب المجرمين» ”اسی طرح سے ہم اسے مجرموں کے دل میں ڈالتے ہیں“ (سورۃ الحجر: ۱۱۲) کے سلسلہ میں کہتے ہیں: اس سے مراد شرک ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4619]
جناب حمید الطویل نے سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کریمہ ﴿كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ﴾ [سورة الحجر: 12] ”ایسے ہی ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔“ کی تفسیر میں کہا: ”اس سے مراد شرک ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18511) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و حميد الطويل عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و حميد الطويل عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ غَيْرِ ابْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدٍ الصِّيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ" وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ سورة سبأ آية 54، قَالَ: بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ".
حسن بصری آیت کریمہ: «وحيل بينهم وبين ما يشتهون» ”ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی“ (سورۃ سبا: ۵۴) کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4620]
عبید الصید، سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آیتِ کریمہ ﴿وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ﴾ [سورة سبإ: 54] کی تفسیر میں کہا کہ ”ان کے اور ان کے ایمان لانے کی خواہش میں رکاوٹ کر دی جائے گی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18524) (ضعیف الإسناد)» (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
سفيان الثوري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ:" كُنْتُ أَسِيرُ بِالشَّامِ فَنَادَانِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَوْنٍ مَا هَذَا الَّذِي يَذْكُرُونَ، عَنِ الْحَسَنِ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَى الْحَسَنِ كَثِيرًا".
ابن عون کہتے ہیں کہ میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں، انہوں نے کہا: اے ابوعون! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4621]
جناب ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں ملک شام میں تھا کہ پیچھے سے کسی نے مجھ کو آواز دی۔ میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ جناب رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ تھے۔“ انہوں نے کہا: ”ابو عون! یہ کیا باتیں ہیں جو لوگ حسن بصری رحمہ اللہ کے متعلق کہہ رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”یہ لوگ حسن رحمہ اللہ پر بہت جھوٹ بول رہے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18523، 18639) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: حسن بصری رحمہ اللہ سے متعلق خصوصا جھوٹے صوفیوں نے بہت سا کفر و شرک گھڑ رکھا ہے، اعاذنااللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليم صوابه سليمان وھو أبو خالد سليمان بن حيان الأحمر مدلس (جزء القرا ء ة بتحقيقي : 267) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
سليم صوابه سليمان وھو أبو خالد سليمان بن حيان الأحمر مدلس (جزء القرا ء ة بتحقيقي : 267) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4622
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يَقُولُ:" كَذَبَ عَلَى الْحَسَنِ ضَرْبَانِ مِنَ النَّاسِ: قَوْمٌ الْقَدَرُ رَأْيُهُمْ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُنَفِّقُوا بِذَلِكَ رَأْيَهُمْ، وَقَوْمٌ لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ شَنَآنٌ وَبُغْضٌ، يَقُولُونَ: أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا؟ أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا؟".
ایوب کہتے ہیں حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں: ایک تو قدریہ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے، وہ کہتے ہیں: کیا یہ ان کا قول نہیں؟ کیا یہ ان کا قول نہیں؟۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4622]
ایوب نے بیان کیا کہ ”سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو تقدیر کے منکر ہیں، ان کی خواہش ہے کہ اس طرح سے اپنی بات اور رائے کو شہرت دے لیں اور عام کر دیں۔ اور دوسرے وہ ہیں جن کے دلوں میں بغض اور عداوت ہے (اور اس طرح باتیں کرتے ہیں): ”کیا یہ اس کا قول نہیں، کیا اس نے اس طرح نہیں کہا ہے؟“ وغیرہ۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18450) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4623
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَنَّ يَحْيَى بْنَ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيَّ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: كَانَ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، يَقُولُ لَنَا:" يَا فِتْيَانُ لَا تُغْلَبُوا عَلَى الْحَسَنِ، فَإِنَّهُ كَانَ رَأْيُهُ السُّنَّةَ وَالصَّوَابَ".
یحییٰ بن کثیر بن عنبری کہتے ہیں کہ قرہ بن خالد ہم سے کہا کرتے تھے: اے نوجوانو! حسن کو قدریہ مت سمجھو، ان کی رائے سنت اور صواب تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4623]
جناب قرہ بن خالد رحمہ اللہ ہم سے کہا کرتے تھے: ”اے جوانو! حسن بصری رحمہ اللہ کے بارے میں مغلوب نہ ہو جانا۔ بلاشبہ ان کی رائے سنت کے مطابق اور حق و صواب (کے تابع) تھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19232) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4624
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ:" لَوْ عَلِمْنَا أَنَّ كَلِمَةَ الْحَسَنِ تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ، لَكَتَبْنَا بِرُجُوعِهِ كِتَابًا وَأَشْهَدْنَا عَلَيْهِ شُهُودًا، وَلَكِنَّا قُلْنَا: كَلِمَةٌ خَرَجَتْ لَا تُحْمَلُ".
ابن عون کہتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ حسن کی بات (غلط معنی کے ساتھ شہرت کے) اس مقام کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی تو ہم لوگ ان کے اس قول کے بارے میں ان کے رجوع کی بابت ایک کتاب لکھتے اور اس پر لوگوں کو گواہ بناتے، لیکن ہم نے سوچا کہ ایک بات ہے جو نکل گئی ہے اور اس کے خلاف معنی پر محمول نہیں کی جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4624]
ابن عون رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر ہمیں یہ علم ہوتا کہ حسن بصری رحمہ اللہ کی کہی ہوئی بات اس حد تک پہنچ جائے گی جہاں تک کہ پہنچی تو ہم ان کے رجوع کے متعلق ایک کتاب لکھتے اور اس پر گواہیاں قائم کرتے۔ لیکن ہم سمجھے کہ ایک بات تھی جو ہو گئی سو ہو گئی، مشہور نہ ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داودع (تحفة الأشراف: 18922) (صحیح مثلہ)»
وضاحت: ۱؎: حسن بصری رحمہ اللہ کے بہت سے اقوال کو لوگوں نے اپنی گمراہ کن بدعتوں کی موافقت میں ڈھال لیا جب کہ خود ان کا مقصد اس قول سے وہ نہیں تھا جو اہل بدعت نے گھڑ لیا، اسی کو ابن عون فرماتے ہیں کہ اگر یہ احساس ہوتا کہ آپ کی بات کو یہ لوگ غلط معنی پہنا کر لوگوں کو گمراہ کریں گے تو ہم حسن بصری سے اس کا غلط ہونا ثابت کرتے، ان سے پوچھتے، وہ جواب دیتے، اور ہم اس پر لوگوں کی گواہیاں بھی کراتے، مگر اس وقت اس کا احساس نہ تھا، اب ان کے بعد اہل بدعت نے سیکڑوں غلط باتیں ان سے منسوب کر رکھی ہیں جن سے وہ بری ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مؤمل بن إسماعيل حسن الحديث وثقه الجمھور
مؤمل بن إسماعيل حسن الحديث وثقه الجمھور
حدیث نمبر: 4625
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ لِي الْحَسَنُ" مَا أَنَا بِعَائِدٍ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ أَبَدًا".
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے حسن بصری نے کہا: میں اب دوبارہ کبھی اس میں سے کوئی بات نہیں کہوں گا، (جس سے تقدیر کی نفی کا گمان ہوتا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4625]
ایوب کہتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: ”میں آئندہ کبھی ایسی بات نہیں کہوں گا۔ (جس میں تقدیر کے انکار کا شبہ ہو۔)“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18502) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4626
حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، قَالَ:" مَا فَسَّرَ الْحَسَنُ آيَةً قَطُّ إِلَّا عَنِ الْإِثْبَاتِ".
عثمان کہتے ہیں کہ حسن نے جب بھی کسی آیت کی تفسیر کی تو تقدیر کا اثبات کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4626]
عثمان البتی بیان کرتے ہیں کہ ”حسن بصری رحمہ اللہ نے جب بھی (قرآن کریم کی) کسی آیت کی تفسیر کی تو اس میں تقدیر کے اثبات (اور اس پر ایمان) ہی کا ذکر کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18525، 19004) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن