سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب الْمُؤَاخَاةِ
باب: بھائی چارے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4893
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ فَإِنَّ اللَّهَ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4893]
سیدنا سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم و زیادتی کرتا ہے اور نہ اسے اس کے حالات پر چھوڑ دیتا ہے (کہ اس کی کوئی پروا ہی نہ کرے)، جو شخص اپنے بھائی کے کام میں ہو گا (اس کی کوئی ضرورت پوری کرے گا) تو اللہ اس کے کام میں ہو گا (اللہ تعالیٰ بھی اس کی کوئی ضرورت پوری کر دے گا)۔ اور جس نے کسی مسلمان کا ایک دکھ دور کیا اللہ عزوجل قیامت کے روز اس کا ایک دکھ دور کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کا عیب چھپایا، اللہ عزوجل قیامت کے روز اس کے عیب چھپائے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 3 (2442)، الإکراہ 7 (6951)، صحیح مسلم/البر والصلة 15(2580)، سنن الترمذی/الحدود 3 (1426)، (تحفة الأشراف: 6877)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/91) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2442) صحيح مسلم (2580)