🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

149. باب فِي السَّلاَمِ عَلَى النِّسَاءِ
باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5204
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , يَقُولُ: أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ ابْنَةُ يَزِيدَ ," مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا".
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5204]
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کی جماعت پر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کہا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الاستئذان 9 (2697)، سنن ابن ماجہ/ الآداب 14 (3701)، (تحفة الأشراف: 15766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/452، 457)، سنن الدارمی/الاستئذان 9 (2679) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگر عورتوں کی جماعت ہے تو انہیں سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عورت اگر اکیلی ہے اور سلام کرنے والا اس کے لئے محرم نہیں ہے تو (فتنہ کے خدشہ نہ ہونے کی صورت میں) سلام نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ فتنہ وغیرہ سے محفوظ رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4647، 4663)
أخرجه ابن ماجه (3701 وسنده حسن) ورواه الترمذي (2697 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں