صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ تَرْكِ الْقِيَامِ لِلْمَرِيضِ:
باب: مریض بیماری میں تہجد ترک سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1124
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَسْوَدِ , قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا , يَقُولُ:" اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے بیان کیا، کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تک (نماز کے لیے) نہ اٹھ سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1124]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو ایک یا دو رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے نہیں اٹھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" احْتَبَسَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ: أَبْطَأَ عَلَيْهِ شَيْطَانُهُ فَنَزَلَتْ: وَالضُّحَى {1} وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى {2} مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى {3} سورة الضحى آية 1-3".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے خبر دی، ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام (ایک مرتبہ چند دنوں تک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (وحی لے کر) نہیں آئے تو قریش کی ایک عورت (ام جمیل ابولہب کی بیوی) نے کہا کہ اب اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے سے دیر لگائی۔ اس پر یہ سورت اتری «والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1125]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے رک گئے تو قریش کی ایک عورت نے کہا: اس کے شیطان نے آنے میں دیر کر دی ہے، اس پر یہ آیات اتریں: ﴿وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ﴾ [سورة الضحى: 1-3] چاشت کی قسم! اور رات کی بھی جب وہ چھا جائے! تیرے رب نے تجھے چھوڑا نہیں اور نہ وہ ناراض ہی ہوا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1125]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة