🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

161. باب فِي قُبْلَةِ الْجَسَدِ
باب: جسم کے کسی حصے کو چومنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5224
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قال:" يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ , فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ , فَقَالَ: أَصْبِرْنِي , فَقَالَ: اصْطَبِرْ , قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ , فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ , فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ , قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ".
اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: بدلہ لے لو تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5224]
جناب عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور یہ انصار میں سے تھے کہ یہ ایک دفعہ اپنی قوم سے باتیں کر رہے تھے، مزاحیہ آدمی تھے اور انہیں ہنسا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں ایک لکڑی چبھو دی۔ تو انہوں نے (اسید بن حضیر نے) کہا: مجھے بدلہ دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے لو۔ انہوں نے کہا: آپ پر تو قمیص ہے اور مجھ پر قمیص نہیں تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اوپر کر دی۔ تو اسید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر بوسے دینے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میری یہی نیت تھی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 151) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4685)
وله لون الآخر عند الحاكم (3/288 ح5262 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں