سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
163. باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ
باب: آدمی کسی سے کہے ”اللہ مجھے آپ پر فدا کرے“ تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5226
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا و مُسْلِمٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِيَانِ ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ , فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا فِدَاؤُكَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو پکارا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں حکم فرمائیے اللہ کے رسول! میں آپ پر فدا ہوں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5226]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے کہا: ”میں حاضر ہوں اور بڑا باسعادت ہوں۔ اے اللہ کے رسول! میں آپ پر فدا اور قربان۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11917) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حماد بن أبي سليمان عنعن
وحديث البخاري (6268) و مسلم (94 بعد 921) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
إسناده ضعيف
حماد بن أبي سليمان عنعن
وحديث البخاري (6268) و مسلم (94 بعد 921) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181