صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ الدُّعَاءِ وَالصَّلاَةِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ:
باب: آخر رات میں دعا اور نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: Q1145
وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كَانُوا قَلِيلا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ سورة الذاريات آية 17 أَيْ مَا يَنَامُونَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ والذاریات میں) فرمایا کہ رات میں وہ بہت کم سوتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے تھے۔ «هجوع» کے معنی سونا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: Q1145]
حدیث نمبر: 1145
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ , يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان نے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ اغر نے اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1145]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا بزرگ و برتر پروردگار ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے جب رات کی آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے اور آواز دیتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اسے قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اسے معاف کر دوں؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة