🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ
باب: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ،" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہانے کا ارادہ کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ پر پردہ کئے رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہا کر اپنا کپڑا لیا، اور اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 21 (280)، الصلاة 4 (357)، الأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/الحیض 16 (336)، المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/الاستئذان 34 (2734)، سنن النسائی/الطہارة 143 (226)، (تحفة الأشراف: 18018)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (27)، مسند احمد (6/341، 342، 343، 423، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1493) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ کپڑا بدن کا پانی خشک کرنے کے لئے تولئے کے طور پر تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 466
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ".
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل کیا، پھر ہم آپ کے پاس ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لپیٹ لیا۔ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس چادر کی وجہ سے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں میں ورس کے جو نشانات پڑ گئے تھے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11095)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/7) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3604) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف اور محمد بن شرجیل مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر الحديث الآتي (3604)
محمد بن شرحبيل: مجهول (تقريب: 5956) ومحمد ابن أبي ليلي: ضعيف
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني في الأوسط (679) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 467
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ حِينَ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَرَدَّهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کر چکے تو میں آپ کے پاس ایک کپڑا لائی، آپ نے اسے واپس لوٹا دیا اور (بدن سے) پانی جھاڑنے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 16 (274)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطہارة 98 (245)، سنن الترمذی/الطہارة 76 (103)، سنن النسائی/الطہارة 161 (254)، الغسل 7 (408)، 14 (418)، 15 (419)، 22 (428)، (تحفة الأشراف: 18064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/330، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 67 (774) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 573) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو یا کپڑا صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن صاف کرنے کو پسند نہ کیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ ، حَدَّثَنَا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَقَلَبَ جُبَّةَ صُوفٍ كَانَتْ عَلَيْهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ".
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے پہنے ہوئے اون کے جبہ کو الٹ کر اس سے اپنا چہرہ پونچھ لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4509، ومصباح الزجاجة: 191) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 3564) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وضو کے بعد ہاتھ منہ صاف کرنے کے سلسلہ میں ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں لہذا جائز ہے ضروری نہیں، بلکہ زاد المعاد میں ابن القیم نے فرمایا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس باب میں ایک حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کپڑا تھا جس سے آپ اپنے اعضاء وضو پونچھا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3564)
السند منقطع،قال البوصيري: ’’ وفي سماع محفوظ عن سلمان نظر ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں