صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ مَنْ لَمْ يُصَلِّ الضُّحَى وَرَآهُ وَاسِعًا:
باب: چاشت کی نماز پڑھنا اور اس کو ضروری نہ جاننا۔
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا آدَمُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر میں خود پڑھتی ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1177]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز اشراق پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا مگر میں اسے ادا کرتی ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة