سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ: صَلاَةِ الرَّجُلِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ
باب: صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ: خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّيْنَا وَرَاءَهُ صَلَاةً أُخْرَى، فَقَضَى الصَّلَاةَ، فَرَأَى رَجُلًا فَرْدًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ، قَالَ: فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، قَالَ:" اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ، لَا صَلَاةَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور (وہ وفد میں سے تھے) کہتے ہیں کہ ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوبارہ نماز پڑھو، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1003]
حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ جو ایک وفد میں شامل ہو کر تشریف لائے تھے ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم (اپنے علاقے سے) روانہ ہوئے (اور مدینہ منورہ تک سفر کیا) حتیٰ کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، پھر آپ کے پیچھے ایک اور نماز پڑھی۔ آپ نے نماز مکمل کی تو دیکھا کہ ایک آدمی صف کے پیچھے اکیلا کھڑا نماز پڑھ رہا ہے۔ (جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور فرمایا: ”شروع سے نماز پڑھو۔ صف کے پیچھے (اکیلا) کھڑے ہونے والے کی کوئی نماز نہیں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10020، ومصباح الزجاجة: 361)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23، 22) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ جب ہے کہ صف میں جگہ ہو، اور بلا عذر اکیلے رہ کر صف کے پیچھے نماز پڑھے، تو اس کی نماز جائز نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، فَأَوْقَفَنِي عَلَى شَيْخٍ بِالرَّقَّةِ يُقَالُ لَهُ: وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، فَقَالَ:" صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ".
ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور رقہ کے ایک شیخ کے پاس مجھے لا کر کھڑا کیا، جن کو وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں نے کہا: ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1004]
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک آدمی نے صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 100 (682)، سنن الترمذی/الصلاة 56 (230، 231)، (تحفة الأشراف: 11738)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/227، 228)، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح