صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ صَلاَةِ النَّوَافِلِ جَمَاعَةً:
باب: نفل نمازیں جماعت سے پڑھنا۔
حدیث نمبر: Q1185
ذَكَرَهُ أَنَسٌ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس کا ذکر انس اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: Q1185]
حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ،" أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرٍ كَانَتْ فِي دَارِهِمْ.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمارے باپ ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کلی بھی یاد ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کے کنویں سے پانی لے کر ان کے منہ میں کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1185]
حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کلی بھی یاد ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کے کنویں سے پانی لے کر اس کے منہ پر کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1186
فَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بِبَنِي سَالِمٍ وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ، إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ، إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَفْعَلُ، فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ، فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ يُصْنَعُ لَهُ، فَسَمِعَ أَهْلُ الدَّارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتَّى كَثُرَ الرِّجَالُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: مَا فَعَلَ مَالِكٌ لَا أَرَاهُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُلْ ذَاكَ أَلَا تَرَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ لَا نَرَى وُدَّهُ وَلَا حَدِيثَهُ إِلَّا إِلَى الْمُنَافِقِينَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ مَحْمُودُ: فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ فَأَنْكَرَهَا عَلَيَّ أَبُو أَيُّوبَ , قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ قَطُّ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَجَعَلْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَنِي حَتَّى أَقْفُلَ مِنْ غَزْوَتِي أَنْ أَسْأَلَ عَنْهَا عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ وَجَدْتُهُ حَيًّا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، فَقَفَلْتُ فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ سِرْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بَنِي سَالِمٍ، فَإِذَا عِتْبَانُ شَيْخٌ أَعْمَى يُصَلِّي لِقَوْمِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَأَخْبَرْتُهُ مَنْ أَنَا ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ.
محمود نے کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا جو بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، وہ کہتے تھے کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا میرے (گھر) اور قوم کی مسجد کے بیچ میں ایک نالہ تھا، اور جب بارش ہوتی تو اسے پار کر کے مسجد تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہو جاتا تھا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے کہا کہ میری آنکھیں خراب ہو گئی ہیں اور ایک نالہ ہے جو میرے اور میری قوم کے درمیان پڑتا ہے، وہ بارش کے دنوں میں بہنے لگ جاتا ہے اور میرے لیے اس کا پار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میری یہ خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر میرے گھر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے اپنے لیے نماز پڑھنے کی جگہ مقرر کر لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری یہ خواہش جلد ہی پوری کروں گا۔ پھر دوسرے ہی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر صبح تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت چاہی اور میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر بیٹھے بھی نہیں بلکہ پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کس جگہ میرے لیے نماز پڑھنا پسند کرو گے۔ میں جس جگہ کو نماز پڑھنے کے لیے پسند کر چکا تھا اس کی طرف میں نے اشارہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہی اور ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ سلام پھیرا۔ میں نے حلیم کھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا جو تیار ہو رہا تھا۔ محلہ والوں نے جو سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما ہیں تو لوگ جلدی جلدی جمع ہونے شروع ہو گئے اور گھر میں ایک خاصا مجمع ہو گیا۔ ان میں سے ایک شخص بولا۔ مالک کو کیا ہو گیا ہے! یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر دوسرا بولا وہ تو منافق ہے۔ اسے اللہ اور رسول سے محبت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا۔ ایسا مت کہو، دیکھتے نہیں کہ وہ «لا إله إلا الله» پڑھتا ہے اور اس سے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ تب وہ کہنے لگا کہ (اصل حال) تو اللہ اور رسول کو معلوم ہے۔ لیکن واللہ! ہم تو ان کی بات چیت اور میل جول ظاہر میں منافقوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر اس آدمی پر دوزخ حرام کر دی ہے جس نے «لا إله إلا الله» اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کہہ لیا۔ محمود بن ربیع نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسی جگہ میں بیان کی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ یہ روم کے اس جہاد کا ذکر ہے جس میں آپ کی موت واقع ہوئی تھی۔ فوج کے سردار یزید بن معاویہ تھے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے انکار کیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات کبھی بھی کہی ہو۔ آپ کی یہ گفتگو مجھ کو بہت ناگوار گزری اور میں نے اللہ تعالیٰ کی منت مانی کہ اگر میں اس جہاد سے سلامتی کے ساتھ لوٹا تو واپسی پر اس حدیث کے بارے میں عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے ضرور پوچھوں گا۔ اگر میں نے انہیں ان کی قوم کی مسجد میں زندہ پایا۔ آخر میں جہاد سے واپس ہوا۔ پہلے تو میں نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا پھر جب مدینہ واپسی ہوئی تو میں قبیلہ بنو سالم میں آیا۔ عتبان رضی اللہ عنہ جو بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے، اپنی قوم کو نماز پڑھاتے ہوئے ملے۔ سلام پھیرنے کے بعد میں نے حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا اور بتلایا کہ میں فلاں ہوں۔ پھر میں نے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھ سے اس مرتبہ بھی اس طرح یہ حدیث بیان کی جس طرح پہلے بیان کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1186]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قبیلہ بنو سالم میں اپنی قوم کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میرے اور اس قبیلے کے درمیان ایک وادی حائل تھی۔ جب بارشیں ہوتیں تو اسے عبور کر کے ان کی مسجد تک پہنچنا میرے لیے دشوار ہو جاتا، اس لیے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری نظر کمزور ہو چکی ہے اور یہ وادی جو میرے اور میری قوم کے درمیان بہتی ہے جب بارشیں ہوں تو اسے عبور کرنا میرے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اسے (ہمیشہ کے لیے) جائے نماز بنا لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عنقریب آؤں گا۔“ چنانچہ ایک دن جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ میں نے آپ کو اجازت دی تو آپ نے بیٹھنے سے پہلے فرمایا: ”آپ اپنے گھر کے کس حصے میں ہمارا نماز پڑھنا پسند کرتے ہیں؟“ میں نے آپ کے لیے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں پسند کرتا تھا کہ وہاں نماز ادا کی جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہا۔ ہم نے بھی آپ کے پیچھے صفیں درست کر لیں۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ ہم نے بھی آپ کے سلام پھیرنے پر سلام پھیر دیا۔ پھر میں نے موٹے آٹے اور گوشت سے تیار کردہ کھانا پیش کیا جو آپ ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ جب اہل محلہ کو پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما ہیں تو وہ پے درپے اکٹھے ہونا شروع ہو گئے حتی کہ بہت سے لوگ میرے گھر میں جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: مالک (ابن دخشن) رضی اللہ عنہ کو کیا ہوا؟ وہ ہمیں یہاں نظر نہیں آ رہا؟ ان میں سے ایک دوسرے شخص نے کہا: وہ منافق ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں رکھتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کہو۔ کیا تم اسے نہیں دیکھتے ہو کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہے اور اس کا کلمہ پڑھنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہے۔“ اس شخص نے کہا: (ویسے تو) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں لیکن اللہ کی قسم! ہم تو اس کی دوستی اور کلام و سلام منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جہنم پر حرام کر دیا ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کلمہ طیبہ پڑھتا ہے۔“ حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ حدیث چند لوگوں سے بیان کی جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ یہ واقعہ اس غزوے میں پیش آیا جس میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اور رومی سرزمین (قسطنطنیہ) میں یزید بن معاویہ رحمہ اللہ امیر لشکر تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کا صاف انکار کر دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہرگز خیال نہیں کہ آپ نے ایسے کلمات فرمائے ہوں گے جو تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیے ہیں۔ مجھ پر ان کا انکار بہت گراں گزرا، اس لیے میں نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس غزوے سے واپسی تک مجھے صحیح سالم رکھا تو میں اس کے متعلق حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے ضرور دریافت کروں گا بشرطیکہ میں انہیں اس قوم کی مسجد میں بقید حیات پاؤں، چنانچہ میں جب اس غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے حج یا عمرے کا احرام باندھا اور وہاں سے روانہ ہوا۔ بالآخر جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو قبیلہ بنو سالم کا رخ کیا۔ میں نے وہاں حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نابینا ہو چکے ہیں اور اپنی قوم کو نماز پڑھا رہے ہیں۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا۔ پھر میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے واقعہ اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلی مرتبہ بیان کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة