🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

130. . بَابُ: مَنْ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا وَهُوَ سَاهٍ
باب: بھول کر ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1205
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَقِيلَ لَهُ: فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ آپ سے کہا گیا (کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور سہو کے دو سجدے کئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1205]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: کیا نماز (کی رکعتوں) میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا (کہ پانچ رکعتیں پڑھی گئی ہیں۔) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں موڑا اور دو سجدے کر لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 31 (401)، 32 (404)، السہو2 (1226)، الأیمان 15 (6671)، صحیح مسلم/المساجد 19 (572) سنن ابی داود/الصلاة 196 (1019)، سنن الترمذی/الصلاة 173 (392)، سنن النسائی/السہو26 (1255)، (تحفة الأشراف: 9411) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/379، 429، 438، 376، 443، 465)، سنن الدارمی/الصلاة 175 (1539) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں