🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

140. . بَابٌ في صَلاَةِ النَّافِلَةِ قَاعِدًا
باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1225
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلَ الصَّالِحَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1225]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی! نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک فوت نہیں ہوئے جب تک آپ اکثر (نفلی) نماز بیٹھ کر نہ پڑھنے لگے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نیک عمل پسند تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے اگرچہ (وہ عمل) تھوڑا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 17 (1655، 1656)، (تحفة الأشراف: 18236)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/305، 319، 320، 321، 322) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱ ؎: عمل اگرچہ تھوڑا ہو جب وہ ہمیشہ کیا جائے تو اس کی برکت اور ہی ہوتی ہے، اور ہمیشگی کی وجہ سے وہ اس کثیر عمل سے بڑھ جاتا ہے جو چند روز کے لئے کیا جائے، ہر کام کا یہی حال ہے مواظبت اور دوام عجب برکت کی چیز ہے، اگر کوئی شخص ایک سطر قرآن شریف کی ہر روز حفظ کیا کرے تو سال میں دو پارے ہو جائیں گے، اور پندرہ سال میں سارا قرآن حفظ ہو جائے گا، اس حدیث پر ساری حکمتیں قربان ہیں، دین و دنیا کے فائدے اس میں بھرے ہوئے ہیں، نفس پر زور ڈالو اور ہمیشہ کام کرنا سیکھو، اور ہر کام کے لئے وقت مقرر کرو اور کسی کام کا ناغہ نہ کرو، اور تھوڑا کام ہر روز اختیار کرو کہ دل پر بار نہ ہو، پھر دیکھو کیا برکت ہوتی ہے کہ تم خود تعجب کرو گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1226
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نفل نماز میں) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1226]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کرنا چاہتے تو اتنے عرصے کے لیے کھڑے ہو جاتے جس میں کوئی انسان چالیس آیتوں کی تلاوت کر لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن النسائی/قیام اللیل 16 (1651)، (تحفة الأشراف: 17950)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (22)، مسند احمد (6/217) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور اتنی قراءت کھڑے کھڑے کر کے پھر رکوع کرتے، نفل میں ایسا کرنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1227
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ إِلَّا قَائِمًا، حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَجَعَلَ يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ قِرَاءَتِهِ أَرْبَعُونَ آيَةً أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَسَجَدَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر پڑھنے لگے، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے (پھر رکوع) اور سجدے کرتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1227]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز ہمیشہ کھڑے ہو کر پڑھتے دیکھا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رحضرت ہو گئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے حتی کہ جب چالیس یا تیس آیتوں کے برابر قراءت رہ جاتی تو کھڑے ہو کر یہ قراءت کرتے اور سجدہ کرتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17030، ومصباح الزجاجة: 431)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 20 (1118)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (953)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (372)، سنن النسائی/قیام اللیل 16 (1650)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 7 (22)، مسند احمد (6/46) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا".
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1228]
حضرت عبداللہ بن شقیق عقیلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا ایک طویل حصہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور رات کا ایک طویل حصہ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، (تحفة الأشراف: 16205)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 179 (955)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (375)، سنن النسائی/ قیام اللیل 16 (1647)، مسند احمد (6/262، 365) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: غرض نفل میں ہر طرح اختیار ہے چاہے بیٹھ کر پڑھے، چاہے کھڑے ہوکر شروع کرے پھر بیٹھ جائے، چاہے بیٹھ کر شروع کرے پھر کھڑا ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں