صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالْحَمْدِ فِي الصَّلاَةِ لِلرِّجَالِ:
باب: نماز میں مردوں کا سبحان اللہ اور الحمدللہ کہنا۔
حدیث نمبر: 1201
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ بِلَالٌ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقَالَ: حُبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَؤُمُّ النَّاسَ، قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتُمْ، فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ يَشُقُّهَا شَقًّا حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَأَخَذَ النَّاسُ بِالتَّصْفِيحِ، قَالَ سَهْلٌ: هَلْ تَدْرُونَ مَا التَّصْفِيحُ؟ هُوَ التَّصْفِيقُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا الْتَفَتَ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ فَأَشَارَ إِلَيْهِ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ ابوحازم سلمہ بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف (قباء) کے لوگوں میں صلح کروانے تشریف لائے، اور جب نماز کا وقت ہو گیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اب تک نہیں تشریف لائے اس لیے اب آپ نماز پڑھائیے۔ انہوں نے فرمایا اچھا اگر تمہاری خواہش ہے تو میں پڑھا دیتا ہوں۔ خیر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نماز شروع کی۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف تک پہنچ گئے۔ لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا۔ (سہل نے) کہا کہ جانتے ہو «تصفيح» کیا ہے یعنی تالیاں بجانا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف بھی دھیان نہیں کیا کرتے تھے، لیکن جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صف میں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر کیا اور الٹے پاؤں پیچھے آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1201]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی وجہ سے تشریف نہیں لا سکے، لہذا آپ لوگوں کی امامت کریں۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! اگر تم چاہو تو میں تیار ہوں، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز پڑھانے لگے۔ اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جانتے ہو «تَصْفِيحٌ» کیا ہے؟ «تَصْفِيحٌ» تالیاں بجانا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دورانِ نماز میں بالکل ادھر ادھر نہیں دیکھا کرتے تھے۔ جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں پیٹنا شروع کیں تو متوجہ ہوئے، دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صف میں کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ فرمایا کہ ”اپنی جگہ پر رہو“ لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمدللہ“ کہا، پھر الٹے پاؤں پیچھے ہوئے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1201]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة