سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
181. بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ
باب: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
حدیث نمبر: 1358
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ فِيهِنَّ سَجْدَةً بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1358]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء سے فارغ ہونے کے بعد سے صبح صادق تک گیارہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے اور ان رکعتوں میں (اتنا لمبا) سجدہ کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اٹھانے سے پہلے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ سکتا تھا۔ پھر جب مؤذن نمازِ فجر کی پہلی اذان دے کر خاموش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہلکی سی دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 316 (1336، 1337)، سنن النسائی/الأذان 41 (686)، (تحفة الأشراف: 15615، 16618، ومصباح الزجاجة: 477)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، االتہجد 3 (1123)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن الترمذی/الصلاہ 209 (441)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (8)، مسند احمد (6/34، 35)، سنن الدارمی/الصلاہ 148 (1487) (صحیح)» (بوصیری نے اس حدیث کی تخریج میں سنن کبریٰ کا ذکر کیا ہے، جب کہ یہ سنن صغری میں ہے، اس لئے یہ زدائد میں سے نہیں ہے، کما سیأتی: 361 أیضاً)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1359
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1359]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 17 (737)، (تحفة الأشراف: 17052)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 10 (1140)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1334)، سنن الترمذی/الصلاة210 (444)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (8) (صحیح)» (دوسری روایت میں ہے کہ تیرہ رکعتوں میں ایک رکعت وتر کی، اور دو رکعت فجر کی سنت تھی، نیز دوسری احادیث میں 11 رکعت کا ذکر ہے اس لئے بعض اہل علم نے 13 والی رکعت کو شاذ کہا ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری و تمام المنة)۔
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ احدى عشرة ركعة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1360
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1360]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 211 (443، 444)، سنن النسائی/قیام اللیل 33 (1697)، (تحفة الأشراف: 15951)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، الوتر 3 (1123)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، سنن ابی داود/الصلاہ 293 (1334)، مسند احمد (6/100، 253)، سنن الدارمی/الصلاة 148، (1487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس باب میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، کسی میں سات رکعت ہے، کسی میں نو رکعت، کسی میں گیارہ رکعت، اور کسی میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے، واضح رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی ہمیشہ آٹھ رکعت پڑھتے، اور یہ اختلاف وتر میں ہے کیونکہ آپ کبھی وتر کی ایک رکعت پڑھتے، تو کل نو رکعت ہوتیں، اور کبھی تین رکعت پڑھتے تو گیارہ رکعت ہوتیں، اور کبھی پانچ رکعت وتر پڑھتے تو سب مل کر تیرہ رکعت ہو جاتیں، اور بعض نے تیرہ رکعت کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ آپ آٹھ رکعت تہجد، اور تین رکعت وتر، اور دو رکعت فجر کی سنتیں سب مل کر تیرہ رکعت ہوتیں ہیں پڑھتے تھے جیسا کہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَا:" ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، مِنْهَا ثَمَانٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ".
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں آٹھ رکعت (تہجد کی ہوتی) اور تین رکعت وتر ہوتی، اور دو رکعت فجر کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1361]
حضرت عامر بن شراحیل شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز) تیرہ رکعت ہوتی تھی۔ ان میں آٹھ رکعتیں (بطور نوافل) ہوتی تھیں اور آپ تین وتر پڑھتے تھے اور دو رکعتیں فجر طلوع ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5770، ومصباح الزجاجة: 476) (صحیح)» (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابواسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1362
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ بْنِ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ:" فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَتِلْكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1362]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے (دل میں) کہا: آج رات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) دیکھوں گا، چنانچہ میں آپ کی چوکھٹ یا خیمے (کے نچلے حصے) پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات کو) اٹھے، آپ نے (پہلے) ہلکی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو بہت ہی طویل تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے پہلے والی رکعتوں سے کم طویل تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے بھی کم طویل تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھا۔ یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (765)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1366)، (تحفة الأشراف: 3753)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (13)، سنن الترمذی/الشمائل (269)، مسند احمد (5/192) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے تہجد کی بارہ رکعت نکلتی ہیں، اور ایک رکعت وتر کی، اور احتمال ہے کہ تہجد کی آٹھ ہی رکعت ہوں، اور پانچ وتر کی ہوں، لیکن دو، دو رکعت الگ الگ پڑھنے سے راوی کو گمان ہوا ہو کہ یہ بھی تہجد ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1363
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ نَامَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ:" فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ:" فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوئے، وہ کہتے ہیں: میں تکیہ کی چوڑان میں لیٹا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی اس کی لمبائی میں لیٹے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، اور نیند کو زائل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرنے لگے، پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے، اور اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کی بغل میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا، اور میرے دائیں کان کو ملتے رہے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پھر وتر ادا کی، پھر لیٹ گئے، جب مؤذن آیا تو دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر نماز (فجر) کے لیے نکل گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1363]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سوئے اور وہ ان کی خالہ تھیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: ”میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا آدھی رات سے تھوڑا سا پہلے یا تھوڑا سا بعد کا وقت تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور نیند دور کرنے کے لیے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات [سورة آل عمران: 190-200] پڑھیں، پھر ایک (کھونٹی پر) لٹکی ہوئی مشک کی طرف گئے اور اس سے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اٹھ کھڑا ہوا، میں نے اسی طرح کیا (آیات پڑھیں اور وضو کیا) جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (بائیں) پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز شروع کر دی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا (اور مجھے اپنے پیچھے سے اپنے دائیں پہلو میں کر لیا) اور میرا دایاں کان پکڑ کر مروڑنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھا۔ پھر لیٹ گئے حتیٰ کہ مؤذن آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر نماز پڑھنے کے لیے گھر سے (مسجد میں) تشریف لے گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 5 37 (183)، الأذان 58 (698)، 77 (726)، 161 (859)، الوتر 1 (992)، العمل في الصلاة 1 (1198)، الدعوات 10 (6316)، التوحید 27 (7452)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1367)، سنن الترمذی/الشمائل 38 (265)، سنن النسائی/الأذان 41 (687)، التطبیق 63 (1122)، قیام اللیل 9 (1621)، (تحفة الأشراف: 6362)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (11)، مسند احمد (1/245، 343، 358) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم