سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
188. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِخَارَةِ
باب: نماز استخارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1383
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ فَيُسَمِّيهِ مَا كَانَ مِنْ شَيْءٍ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى وَإِنْ كَانَ شَرًّا لِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُمَا كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز استخارہ سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے، تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم هذا الأمر (پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے) خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو خيرا لي في عاجل أمري وآجله- فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه وإن كنت تعلم (پھر ویسا ہی کہے جیسے پہلی بار کہا)، وإن كان شرا لي فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيثما كان ثم رضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کی مدد سے قوت کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کا میں قصد رکھتا ہوں) میرے لیے میرے دین، میری دنیا اور میرے انجام کار میں ۱؎ بہتر ہے، تو اس کو میرے لیے مقدر کر دے، میرے لیے آسان کر دے، اور میرے لیے اس میں برکت دے، اور اگر یہ کام میرے لیے برا ہے (ویسے ہی کہے جیسا کہ پہلی بار کہا تھا) تو اس کو مجھ سے پھیر دے، اور مجھ کو اس سے پھیر دے، اور میرے لیے خیر مقدر کر دے، جہاں بھی ہو، پھر مجھ کو اس پر راضی کر دے“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1383]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ (کی دعا) اسی طرح (اہتمام سے) سکھاتے تھے جس طرح قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاوہ دو رکعتیں (نفل) پڑھے، پھر کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ» (یہاں اس چیز کا نام لے) «خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي» (یا یوں فرمایا:) «خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ» (جس طرح پہلے کہا تھا، اسی طرح کہے) «شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي» (یا کہے) «شَرًّا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے واسطے سے (حصولِ خیر کی) طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں۔ بے شک تو (ہر چیز پر) قدرت رکھتا ہے اور میں (کسی چیز پر) قدرت نہیں رکھتا، تو (غیب) جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو (تمام) پوشیدہ امور سے باخبر ہے۔ اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میری دنیا، میری معاش اور انجامِ کار میں بہتر ہے۔۔۔۔ (یا فرمایا) میرے فوری معاملات میں اور بعد کے معاملات میں بہتر ہے۔۔۔۔ تو اسے میرے لیے مقدور کر دے، اسے میرے لیے آسان فرما دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا فرما دے اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے برا ہے (یعنی) پہلے جملے والے الفاظ (دوبارہ) کہے (کہ میری دنیا میں، میری معاش میں، اور میرے انجامِ کار میں۔۔۔۔ یا میرے فوری معاملات میں اور بعد کے معاملات میں) تو اس کام کو مجھ سے دور ہٹا دے اور مجھے اس سے (بہتر کام کی طرف) پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدور کر دے جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی (اور مطمئن) کر دے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 25 (1162)، الدعوات 48 (6382)، التوحید 10 (7390)، سنن ابی داود/الصلاة 366 (1538)، سنن الترمذی/الصلاة 232 (480)، سنن النسائی/النکاح 27 (3255)، (تحفة الأشراف: 3055)، ومسند احمد (3/8 4/344) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس دارفانی اور اخروی زندگی میں۔ ۲؎: استخارہ کے لغوی معنی خیر طلب کرنے کے ہیں، چونکہ اس دعا کے ذریعہ انسان اللہ سے خیر طلب کرتا ہے، اس لیے اسے دعائے استخارہ کہتے ہیں، اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد دعا پڑھی جائے، استخارہ کا تعلق مناجات سے ہے، اور استخارہ خود کرنا چاہئے کسی اور سے کروانے ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري