🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

199. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر رسول پہلے کیسے بنا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1414
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَرَاكَ النَّاسُ وَتُسْمِعَهُمْ خُطْبَتَكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَصَنَعَ لَهُ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَهِيَ الَّتِي أَعْلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا وُضِعَ الْمِنْبَرُ وَضَعُوهُ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ،" فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الْمِنْبَرِ، مَرَّ إِلَى الْجِذْعِ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا جَاوَزَ الْجِذْعَ خَارَ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَمِعَ صَوْتَ الْجِذْعِ، فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَّى إِلَيْهِ"، فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ وَغُيِّرَ، أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ عِنْدَهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى بَلِيَ، فَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، ۱؎ پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب (عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے) مسجد ڈھائی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1414]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب مسجد نبوی ایک چھپر کی صورت میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دیں جس پر آپ جمعے کے دن (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوا کریں تاکہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو سکیں اور آپ کا خطبہ (اچھی طرح) سن سکیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے آپ کے لیے (منبر کے) تین درجے بنا دیے۔ وہی (تین سیڑھیاں) اب (موجود) منبر کا سب سے بالائی حصہ ہیں۔ جب منبر تیار ہوگیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے اسی مقام پر رکھا جہاں وہ اب ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر منبر پر جانے لگے تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آگے بڑھے تو وہ زور زور سے رونے لگا حتی کہ (شدتِ غم سے) اس کی آواز پھٹ گئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنے (کے رونے) کی آواز سنی تو (منبر سے) نیچے تشریف لے آئے، اس (تنے) پر ہاتھ پھیرتے رہے حتی کہ وہ خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر منبر پر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ جب مسجد نبوی کو (دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے) منہدم کیا گیا اور مسجد کی عمارت میں تبدیلی (اور توسیع) کی گئی تو وہ تنا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، وہ ان کے پاس ان کے گھر ہی میں رہا حتی کہ بہت پرانا ہوگیا، پھر اسے دیمک نے کھا لیا اور وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 34، ومصباح الزجاجة: 499)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/137)، سنن الدارمی/المقدمة 6 (36) (حسن)» ‏‏‏‏ (کھجور کے تنے کی گریہ وزاری سے متعلق کئی احادیث ہیں، جب کہ بعض اس بارے میں ہیں، نیز تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری 6؍603)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور معجزہ مذکور ہے، یعنی لکڑی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونا، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز میں نفس اور جان ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ جس کو چاہے قوت گویائی عطا کر دے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو کہ منبر نبوی کی تین سیڑھیاں تھیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عقيل: ضعيف
ولأصل الحديث شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1415
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَحَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1415]
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف چلے تو وہ تنا (ستون) رو پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اسے سینے سے لگایا، تب وہ خاموش ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے گلے سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 389، 6297، ومصباح الزجاجة: 500)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 6 (3631)، مسند احمد (1/ 249، 267، 266، 363)، سنن الدارمی/المقدمة 6 (40) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1416
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَأَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ: فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي،" هُوَ مِنْ أَثْلِ الغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ نَجَّارٌ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَامَ عَلَيْهِ حِينَمَا وُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ فَقَامَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، (اور منبر سے اتر کر) زمین پر سجدہ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1416]
حضرت ابو حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ وہ کس چیز (کی لکڑی) سے بنا ہوا تھا؟ چنانچہ وہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: یہ بات مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ وہ غابہ کے جھاؤ سے بنا تھا۔ اسے فلاں خاتون کے فلاں بڑھئی غلام نے بنایا تھا۔ وہ اسے لے کر حاضر ہوا۔ جب وہ (اپنے مقام پر) رکھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، آپ نے قبلے کی طرف منہ کیا۔ لوگ آپ کے پیچھے (آپ کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے) تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر (رکوع سے) سر اٹھایا، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے حتی کہ زمین پر سجدے کیے، پھر دوبارہ منبر پر کھڑے ہو گئے اور قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر قومہ کیا، پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے حتی کہ زمین پر سجدے کیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 18 (377)، الجمعة 26 (917)، صحیح مسلم/المساجد 10 (544)، (تحفة الأشراف: 4690)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 221 (1080)، سنن النسائی/المساجد 45 (740)، مسند احمد (5/330)، سنن الدارمی/الصلاة 45 (1293) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: غابہ: ایک مقام کا نام ہے، جو مدینہ سے نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُومُ إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ، أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ، ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، قَالَ: فَحَنَّ الْجِذْعُ، قَالَ جَابِرٌ: حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1417]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ یا (فرمایا:) ایک درخت کے تنے کے قریب کھڑے ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوا لیا تو وہ تنا رونے لگا حتی کہ مسجد میں موجود لوگوں نے اس کی آواز سنی، (وہ روتا رہا) حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس آ کر اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ ایک آدمی نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3115)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 26 (918)، المناقب 25 (3584)، سنن النسائی/الجمعة 17 (1397)، مسند احمد (3/306)، سنن الدارمی/الصلاة 202 (1603) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں