سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
201. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ
باب: کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1422
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ بِهَا عَنْكَ خَطِيئَةً".
ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1422]
حضرت ابو فاطمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتائیے جس پر میں قائم رہوں اور اسے کیا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کثرت سے سجدے کیا کر کیونکہ تو اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرے گا، اس کی وجہ سے اللہ تیرا ایک درجہ بلند کر دے گا اور تیری ایک غلطی معاف کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12078)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/276، 280) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1423
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ عُدْتُ فَقُلْتُ مِثْلَهَا: فَسَكَتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لِي: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً"، قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَسَأَلْتُهُ: فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا، یہ سن کر وہ خاموش رہے، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی، تو بھی وہ خاموش رہے، تین بار ایسا ہی ہوا، پھر انہوں نے کہا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کر لو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے“۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1423]
حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے عرض کیا: ”مجھے کوئی حدیث سنائیے، شاید اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے۔“ وہ خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ عرض کیا تو وہ خاموش رہے۔ میں نے تین بار یہی کہا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اللہ کے لیے سجدے کیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اس کی وجہ سے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کی ایک غلطی معاف کر دیتا ہے۔““ حضرت معدان رحمہ اللہ نے فرمایا: پھر میری ملاقات حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے بھی یہی درخواست کی تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 43 (488)، سنن الترمذی/الصلاة 170 (388، 389)، (تحفة الأشراف: 2112، 10965)، مسند احمد (5/276، 280، 283) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1424
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْمُرِّيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، فَاسْتَكْثِرُوا مِنَ السُّجُودِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1424]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو بندہ بھی اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ اس کے بدلے میں اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس (سجدہ) کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کرتا ہے اور اس (سجدہ) کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اس لیے سجدے کثرت سے کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5102، ومصباح الزجاجة: 503) (صحیح)» (صحیح مسلم وغیرہ میں ثوبان کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ا س کی سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، الإرواء: 457)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح