سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أُصِيبَ بِوَلَدِهِ
باب: جس کا بچہ مر جائے اس کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1603
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمُوتُ لِرَجُلٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1603]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کے تین بچے فوت ہو جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا مگر قسم پوری کرنے کے لیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 6 (1251)، الأیمان والنذور9 (6656)، صحیح مسلم/البروالصلة 47 (2632)، (تحفة الأشراف: 13133)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 64 (1060)، سنن النسائی/الجنائز 25 (1876)، موطا امام مالک/الجنائز 13 (38)، مسند احمد (2/240، 276، 473، 479) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جو اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے، «وَإِن مِّنكُمْ إِلا وَارِدُهَا» (سورة مريم: 71) یعنی کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جس کا گزر جہنم سے نہ ہو، اور یہ وعدہ تب ہے کہ وہ ان بچوں کی موت پر صبر کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ ، قَالَ: لَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ السُّلَمِيُّ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ".
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس مسلمان کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مر جائیں، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1604]
حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں جو گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں وہ جنت کے آٹھوں دروازوں پر اس کا استقبال کریں گے جس دروازے سے چاہے (جنت میں) داخل ہوجائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9754، ومصباح الزجاجة: 581)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/183، 184) (حسن)» (لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، شرحبیل بن شفعہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی باپ کو اختیار ہو گا کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازہ سے چاہے اندر جائے، اس کے چھوٹے بچے جو بچپن میں مر گئے تھے اس کو اندر لے جائیں گے، اور اس دروازہ پر اپنے باپ سے ملیں گے، سبحان اللہ اولاد کا مرنا بھی مومن کے لئے کم نعمت نہیں ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، نووی کہتے ہیں کہ معتبر اہل اسلام نے اس پر اجماع کیا ہے، اور بعض نے اس کے بارے میں توقف کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1605
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1605]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن دو مسلمانوں (میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں جو گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کر کے انہیں جنت میں داخل کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 6 (1248)، 91 (1381)، سنن النسائی/الجنائز 25 (1874)، (تحفة الأشراف: 1036)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1606
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ"، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ، قَالَ:" وَاثْنَيْنِ"، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ أَبُو المُنْذرِ كَعْبٍ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ قَدَّمْتُ وَاحِدًا، قَالَ:" وَوَاحِدًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اور دو بھی“، پھر قاریوں کے سردار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک بھی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1606]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین بچے آگے بھیجے جو گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں، وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط رکاوٹ بن جائیں گے۔“ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور دو بھی (جہنم سے حفاظت کا باعث بن جائیں گے)۔“ قُرّاء کے سردار حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ایک بچہ آگے بھیجا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک بھی (جہنم سے بچاؤ کا باعث ہوگا)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 65 (1061)، (تحفة الأشراف: 9634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/375، 429، 451) (ضعیف)» (سند میں ابو محمد مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1061)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
إسناده ضعيف
ترمذي (1061)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436