سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ وَالْخِيَارِ فِي الصَّوْمِ
باب: فرض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات سے روزے کا پختہ ارادہ نہ کرے، اس کا کوئی روزہ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 71 (2454)، سنن الترمذی/الصوم 33 (730)، سنن النسائی/الصیام 39 (2333،)، (تحفة الأشراف: 15802)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام2 (5)، مسند احمد (6/278)، سنن الدارمی/الصوم 10 (1740) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: روزہ دار کے لیے رات میں نیت کرنے کا یہ حکم فرض اور قضا و کفارہ کے روزے کے سلسلہ میں ہے، نفلی صیام کے لئے رات میں نیت ضروری نہیں جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے جو نیچے آگے رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333)
الزھري مدلس وعنعن
وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر ‘‘ موقوف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333)
الزھري مدلس وعنعن
وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر ‘‘ موقوف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟"، فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ:" إِنِّي صَائِمٌ" فَيُقِيمُ عَلَى صَوْمِهِ، ثُمَّ يُهْدَى لَنَا شَيْءٌ فَيُفْطِرُ، قَالَتْ: وَرُبَّمَا صَامَ وَأَفْطَرَ، قُلْتُ: كَيْفَ ذَا؟، قَالَتْ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا، مَثَلُ الَّذِي يَخْرُجُ بِصَدَقَةٍ فَيُعْطِي بَعْضًا وَيُمْسِكُ بَعْضًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور پوچھتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے“؟ ہم کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے: ”میں روزے سے ہوں“، اور اپنے روزے پر قائم رہتے، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے، اور کبھی کھول دیتے، میں نے پوچھا: یہ کیسے؟ تو کہا: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1701]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے اور فرماتے: ”کیا آپ لوگوں کے پاس کوئی (کھانے کی) چیز ہے؟“ ہم کہتے: نہیں، تو فرماتے: ”میرا روزہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھے رہتے۔ پھر ہمیں ہدیہ کے طور پر کوئی چیز مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑ دیتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات روزہ رکھتے اور (بعض اوقات) کھول دیتے۔“ (مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا:) میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص صدقہ (دینے کے لیے رقم) نکالتا ہے، پھر (اس میں سے) کچھ (کسی مستحق کو) دے دیتا ہے اور کچھ اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17578)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 32 (1154)، سنن ابی داود/الصوم 72 (2455)، سنن الترمذی/الصوم 35 (734)، سنن النسائی/الصوم 39 (2327)، مسند احمد (6/49، 207) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر دعوت ہو یا عمدہ کھانا سامنے آ جائے، یا کوئی دوست کھانے کے لئے اصرار کرے تو نفلی روزہ توڑ ڈالے، یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن